خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 179

خطبات محمود 129 سال ۱۹۳۵ء میں آئے اور خدا تعالیٰ نے آپ کو کتاب دی تو اُس وقت یہودیوں کے پاس تو رات ، عیسائیوں کے پاس انجیل، زرتشتیوں کے پاس ژند اوستا اور ہندوؤں کے پاس وید تھے ، کیا رسول کریم ﷺ یہ کہتے کہ آپ لوگوں کی کتابیں تو بڑی اعلیٰ درجہ کی ہیں اور ان میں نور اور ہدایت بھری ہوئی ہے اور ان کی تعلیم پر چل کر انسان اپنے رب کے پاس پہنچ سکتا ہے لیکن دیکھو! میری خاطر ان کو چھوڑ دو اور جو کتاب میں پیش کرتا ہوں اسے مان لو۔لازماً آپ کو یہی کہنا پڑتا کہ وہ کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں مگر اب ان میں سے نو راُٹھ گیا ہے اور انسانی ہاتھوں نے ان میں تغیر و تبدل کر دیا ہے۔پس رسول کریم ﷺ نے ان کی کتابوں کو برا بھلا نہیں کہا بلکہ ان کے متعلق ایک حقیقت حال کا اظہار کیا اور ان کی ہمدردی اور خیر خواہی کیلئے وہ بات کہی جو سچی تھی۔ایسا ہی آجکل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بعض الفاظ کہے ہیں اور لوگ ان پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ وہ ان باتوں کو قرآن مجید میں پڑھتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ ان کو اپنے زمانہ پر بھی انہیں چسپاں کرنا چاہئے اللہ تعالیٰ بالکل صاف اور کھلے الفاظ میں فرماتا ہے کہ جن لوگوں نے تو رات پر عمل نہیں کیا ان کی مثال گدھے کی سی ہے لیکن آج اگر یہودی شور مچادیں اور کہیں کہ قرآن نے ہمیں گالی دی ہے تو یہ سب مخالف جو آج ہم پر اعتراض کرتے ہیں، انہیں کہنے لگ جائیں کہ ان کی عقل ماری گئی ، یہ تو اظہارِ حقیقت ہے نہ کہ گالی مگر یہی حرکت آپ کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ کس قدر بے جا حرکت کر رہے ہیں۔بہر حال انہوں نے بھی اعتراض کر دیا تھا جیسا کہ آج کل غیر احمدی ہماری جماعت پر کرتے ہیں۔یہودی کوئی نیک تو تھے نہیں کہ وہ خاموش رہتے انہوں نے اس لفظ کے استعمال کرنے پر اعتراض کیا اور جیسا کہ قرآن مجید کا طریق ہے کہ وہ بغیر اعتراض کو بیان کئے اعتراض کا جواب دے دیا کرتا ہے ایسا ہی یہاں بھی کیا گیا ہے اور یہودیوں کے اسی اعتراض کا جو گدھا کہنے پر ان کے دل میں پیدا ہوا تھا جو اب اگلی آیت میں دیتے ہوئے فرماتا ہے۔قُلْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا إِنْ زَعَمْتُمُ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَدِقِينَ فرماتا ہے دیکھو! ہم نے غلط بیانی نہیں کی ، گالی نہیں دی بلکہ مجبوری سے ایک بات کہی ہے اور واقعہ یہی ہے کہ وہ کتاب جو تمہیں دی گئی ہے آج تم اس پر عمل نہیں کرتے اور نہ اس تعلیم کو دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کرتے ہو تم کہتے ہو کہ تمہارے سوا دنیا کی اور کوئی قوم خدا تعالیٰ کی پیاری نہیں تم کہتے ہو کہ تمہارے سوا اور کوئی قوم اس کے بچے دین کی