خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 124

خطبات محمود ۱۲۴ سال ۱۹۳۵ء ، گوشت اور ترکاریاں اُسے اسی طرح طاقت پہنچاتی ہیں جس طرح دوسروں کو۔وہ خدا کے دین کو زبان سے گالیاں دیتا ہے مگر پھر بھی اس کی زبان ہر چیز کا ذائقہ محسوس کرتی ہے ، اس کے کان محمد رسول اللہ ، خدا کے نائب اور وائسرائے کی پھلیاں سنتے رہتے ہیں مگر پھر بھی سماعت کی قوت سے محروم نہیں ہوتے اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے محروم نہیں کیا جاتا یہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ابو جہل کو اُس کے گناہوں کی جو سزا پہنچتی ہے وہ اسی دائرے کے اندر پہنچتی ہے جس میں وہ اسے مجرم قرار دے لیتا ہے۔چور چوری کرتا ہے اور کسی کا حلوا پر الیتا ہے خدا تعالیٰ اسے چور قرار دیتا ہے مگر یہ نہیں کرتا کہ وہ حلوا اس کی زبان کو کڑوا لگے بلکہ ممکن ہے کہ وہ اسے زیادہ لذیذ معلوم ہو کیونکہ اُس نے اپنے آپ کو خطرات میں ڈال کر اسے حاصل کیا تھا پھر ممکن ہے وہ چور کے اعصاب کو مالک کی نسبت زیادہ قوت پہنچائے بوجہ اس کے کہ اس کا معدہ زیادہ اچھا ہو پس اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں سزا کا ایک طریق ہے اور وہ اس سے باہر نہیں جاتا۔وہ یہ نہیں کرتا کہ چونکہ اس نے مُجرم کیا ہے اس لئے ہم اسے ہر طرف سے پکڑیں گے۔پھر دنیا کی حکومتیں ہر جرم پر پکڑتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا بلکہ وہ انتظار کرتا ہے تابندہ کو اصلاح کا موقع ملے لیکن جب دیکھتا ہے کہ اب یہ شخص بند نہیں ہوتا تو پھر گرفت کرتا ہے لیکن اس کی سزائیں محدود ہوتی ہیں۔دُنیاوی حکومتیں چاہے کتنا اعلے انصاف کرنے والی ہوں پھر بھی ان میں اور الہی حکومت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔الہی حکومت دیکھو کتنی ملکی حکومت ہے کہ اس کا پتہ بھی نہیں لگتا اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے میں تمہیں تباہ کر دوں گا، میں یہ کر دوں گا وہ کر دوں گا اور اس طرح گویا وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود خدا ہو گیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس جاتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لائے اور وہ کہتا ہے میں خود خدا ہوں مگر پھر بھی اس کی زبان کڑوا میٹھا چکھتی ہے ، کان سُنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ سب چیزیں اُسے فائدہ پہنچاتی ہیں۔غور کرو اللہ تعالیٰ کی حکومت کیسی ہلکی ہے۔فرعون روز دیکھتا ہے کہ اس کا سونا ، کھانا، پینا ،موت ، حیات ، بچوں کی پیدائش ، بارشیں لانا اور لے جانا، ہواؤں کا چلانا اور روکنا مختلف امراض کا پیدا ہونا سب باتیں اس کے اختیار سے باہر ہیں مگر پھر بھی اسے محسوس نہیں ہوتا وہ عَلَی الْإِعْلان کہتا ہے کہ میں ہی خدا ہوں اور کون ہے؟ مگر سورج اسے روشنی پہنچانا بند نہیں کرتا اور اپنی جسمانی طاقتوں سے وہ محروم نہیں ہو جاتا تو خدا کی حکومت اتنی ملکی ہے کہ اس کا پتہ لگا نا بھی مشکل ہوتا ہے اور