خطبات محمود (جلد 16) — Page 108
خطبات محمود ۱۰۸ سال ۱۹۳۵ء سے زیادہ زور کے ساتھ مالی قربانیاں کرتا ہے۔ایک بیداری ہے جو جماعت میں پیدا ہوگئی ،ایک تقویٰ ہے جو ہر شخص کے دل میں ہے اگر یہ تمام باتیں ہیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ یہ سزا ہے۔پھر خدا تعالیٰ کا قول ہماری تائید میں ہے کیونکہ متواتر الہامات اور مسلسل خوا ہیں جو جماعت کے مختلف لوگوں کو آئیں ظاہر کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ اس فتنہ کے ذریعہ ہماری جماعت کو بڑھائے اور پھیلائے اور ترقی دے اور یہ کوئی عجیب امر نہیں کہ اللہ تعالی تکالیف سے ترقی مدارج کی صورت پیدا کرے ایسا ہمیشہ ہی ہوتا ہے۔اس بارہ میں میرا ایک عجیب تجربہ ہے ، میرے راستہ میں دفعہ ایک سخت مشکل پیش آئی ، ایسی کہ فکر سے میری کمر جھکی جاتی تھی اور میں سمجھتا تھا کہ اس روک کو دور کر نیکے ظاہری سامان مفقود ہیں۔میں نے دعا کی مگر جب نتیجہ میں دیر ہونے لگی تو میں نے عہد کیا کہ میں اس وقت تک کہ دعا قبول ہو زمین پر سویا کروں گا چار پائی پر نہ لیٹوں گا۔چنانچہ میں زمین پر سویا ، آدھی رات کے قریب میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ عورت کی شکل میں جسے میں اپنی والدہ سمجھتا ہوں آیا اس کے ہاتھ میں ایک بار یک سی چھڑی ہے جو درخت کی تازہ کٹی ہوئی بار یک شاخ معلوم ہوتی ہے اس کے سر پر کچھ پتے بھی لگے ہوئے ہیں چہرہ سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ غصہ ہے مگر اس غصہ کے اندر پیار کی جھلک بھی نظر آتی ہے، میرے قریب آکر اور چھڑی کو گھماتے ہوئے اس تمثیل نے مجھے کہا کہ چار پائی پر لیٹتا ہے کہ نہیں ، چار پائی پر لیٹتا ہے کہ نہیں ، پھر اس نے مجھے آہستہ سے چھڑی مارنی چاہی جیسے ایسے شخص کو تنبیہہ کرتے ہیں جس کے متعلق پیار کا غلبہ ہوتا ہے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ چھڑی مجھے لگی یا نہیں مگر میں معا گود کر چار پائی پر چلا گیا اور اس کے ساتھ ہی میری آنکھ کھل گئی۔جب میری آنکھ کھلی تو اس وقت میں نے دیکھا کہ میں چار پائی کی طرف جارہا تھا، اس کے بعد دوسرے ہی دن وہ بات جس کا مجھے فکر تھا خدا تعالیٰ کے فضل سے حل ہو گئی۔اس رویا میں پیار والے ابتلاء کو واضح کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو تکلیف میں ڈالتا ہے دوسری طرف وہ اتنی بھی برداشت نہیں کرتا کہ وہ چار پائی کو چھوڑ کر زمین پر سوئے گویا جس تکلیف کو اس نے ترقی کے لئے ضروری سمجھا تھا وہ تو پہنچاتا ہے اس کے علاوہ ایک ذرا سا دکھ بھی پہنچے تو وہ بے تاب ہو کر اس طرح انسان کی طرف دوڑتا ہے جس طرح ماں اپنے بچے کی طرف۔یہی حالت اس وقت ہے تم خود غور کرو کہ ان ابتلاؤں کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔ان ابتلاؤں کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں نے فیصلہ کیا کہ جماعت مالی قربانی