خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 107

خطبات محمود 1+2 سال ۱۹۳۵ء تو حید کو مشتبہ کرتے ہیں۔پس تکمیل کے مقامات غیر محدود ہیں اور ان کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ انسان تو به واستغفار کرتا رہے اور اپنے اندر ایک بیداری و ہوشیاری پیدا کرے پس دعا ئیں کرنا تو بہ کرنا اور استغفار کرنا لازمی چیزیں ہیں اور ان کی روحانیت کی تکمیل کے لئے ہمیشہ ضرورت ہے اور اسی وجہ سے میں ان کی تاکید کرتا ہوں۔کب میں نے کہا ہے کہ تم تو بہ واستغفار نہ کرو، کب میں نے کہا ہے کہ تم دعائیں نہ کرو میں نے تو ہر خطبہ میں کہا ہے کہ ہمارا کام خدا بنائے گا ظاہری تدبیر میں کچھ چیز نہیں۔پس دعا ئیں اور توبہ واستغفار ضروری ہے مگر نہ اس لئے کہ یہ عذاب ہے جو ہم پر آ رہا ہے بلکہ اس لئے کہ روحانی تکمیل کے لئے ان امور کی ضرورت ہے اور کوئی شخص خواہ کتنے بڑے بلند مقامات پر بھی فائز ہو جائے ان سے بے نیاز نہیں ہو سکتا۔عذاب تو تب آتا ہے جب جماعت کی اکثریت خراب ہو جاتی ہے مگر کب ہماری جماعت کی اکثریت خراب ہوئی۔یا کب اس کی اکثریت نے ٹھوکر کھائی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات جماعت کیلئے ایک بہت بڑا ابتلاء تھا مگر کیا اس وقت اکثریت نے ٹھوکر کھائی۔پھر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں جب صدر انجمن نے بغاوت کی تو کیا اُس وقت اکثریت نے ٹھو کر کھائی۔آپ کی وفات پر خلافت کے متعلق جب جھگڑا ہوا تو کیا اُس وقت اکثریت نے ٹھوکر کھائی۔جب نبوت اور کفر و اسلام وغیرہ مسائل پر بحث ہوئی اور یہ خیال رائج کرنے کی کوشش کی گئی کہ اس قسم کے عقائد کے نتیجہ میں لوگوں کے دلوں میں احمدیت سے منافرت پیدا ہوگی اور غیروں کو انگیخت کر کے عملاً جماعت کو تکلیف پہنچائی بھی گئی مگر کیا اس وقت اکثریت نے ٹھو کر کھائی۔پھر اب قربانی کا سوال میں نے جماعت کے سامنے پیش کیا تو جماعت نے قربانی کا کیسا شاندار نمونہ دکھایا ہے کیا جن پر عذاب آرہا ہو ان کی یہی حالت ہوا کرتی ہے؟ جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سزامل رہی ہو ان سے تو نیکی کی تو فیق چھین لی جاتی ہے۔چنانچہ ابو جہل کو جب سزا ملتی تو وہ نیکی میں اور زیادہ گھٹ جاتا۔اس کے مقابلہ میں حضرت ابو بکر یا دوسرے صحابہ پر جب ابتلاء آتے تو وہ نیکیوں میں ترقی کر جاتے یہی علامت اس بات کی ہوتی ہے کہ کونسا ابتلاء ہے اور کونسا عذاب۔جب سزا آتی ہے تو اس وقت دل کا زنگ بڑھ جاتا ہے اور انعام پر دل کا نور ترقی کرتا ہے۔اس وقت دیکھ لو کیا نیک تغیر ہے جو جماعت میں پیدا ہو رہا ہے ہر شخص اپنے دل میں ایک تازگی محسوس کرتا ہے ، ہر شخص پہلے سے زیادہ دعاؤں میں مصروف ہے، پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ نیکیوں کی طرف توجہ رکھتا ہے ، پہلے