خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 805 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 805

خطبات محمود ۸۰۵ سال ۱۹۳۵ء مشہور ہے کہ اکبر بادشاہ کے دربار میں یہ سوال پیش ہوا کہ اندھے زیادہ ہیں یا سو جا کھے؟ اس کے دربار میں ایک شخص مولوی عبد القادر نامی تھے۔انہوں نے کہا اندھے بہت زیادہ ہیں۔بادشاہ نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ ان کے اصرار پر اُس نے حکم دیا کہ اندھوں اور سو جا کھوں کی لٹیں تیار کی جائیں اور انہی مولوی صاحب کو اس کام پر مقرر کیا۔مولوی عبد القادر صاحب ایک بڑے بازار میں بیٹھ گئے اور لسٹ بنانے لگے۔بادشاہ بھی ان کا کام دیکھنے کے لئے بازار میں سے گزرے۔دوسرے دن جب اندھوں کی فہرست بادشاہ کے سامنے پیش ہوئی تو سب سے پہلے بادشاہ کا نام ہی اُس میں لکھا ہوا تھا۔بادشاہ نے دریافت کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ مولوی عبد القادر صاحب نے کہا کہ حضور ! میں بازار میں وقت گزارنے کے لئے رشی بٹ رہا تھا جب آپ گزرے تو آپ نے پوچھا کہ مولوی صاحب آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس سے معلوم ہوا کہ آپ دیکھ نہیں سکتے ورنہ ہر آنکھ والا شخص دیکھ سکتا تھا کہ میں رہتی بٹ رہا تھا۔اُن کا مطلب در حقیقت یہ تھا کہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں عقل سے کام نہیں لیتے پھر وہ بینا کہلانے کا مستحق کیونکر ہو سکتے ہیں۔اور نا بینا سے مراد عقل کے اندھے تھے نہ کہ ظاہری آنکھوں سے محروم۔اب تم بتاؤ کہ اگر میں ایسے لوگوں کی لسٹیں بنانا چاہوں جن کے متعلق مجھے یقین ہو کہ وہ خدا کے لئے اپنا گھر بار اور وطن چھوڑ دیں گے تو اِس فہرست میں کن کا نام لکھوں۔کیا اُن کو میں اس میں شامل کر سکتا ہوں جنہوں نے ایک مہینہ بھی تبلیغ کے لئے وقف نہیں کیا ؟ کیا تم امید کرتے ہو کہ اس فہرست میں میں ایسے لوگوں کے نام لکھ دوں اور کہوں کہ اے خدا ! یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا سب کچھ تیری راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں؟ اگر میں ایسا کروں تو بتاؤ کہ کیا میرا نام بھی جھوٹوں میں نہیں لکھا جائے گا ؟ اس لئے میں جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔خدا تعالیٰ کا دین مر چکا ہے وہ اسے زندہ کرنا چاہتا ہے۔اور اس کے لئے اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے اور آپ لوگوں نے اس خدمت کو اپنے ذمہ لیا ہے آپ کے وعدے تو بیعت کے ذریعہ بہت بڑے ہیں۔سر دست صرف وعدہ کا ایک حصہ پورا کرنے کے لئے میں آپ لوگوں کو بلا رہا ہوں۔پس آپ لوگوں کا فرض ہے کہ میری آواز پر لبیک کہہ کر اپنے وعدوں کی سچائی کا ثبوت دیں۔جو آیات میں نے پڑھی ہیں ان میں موجودہ حالات کے مشابہہ حالات میں خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو حکم دیا ہے