خطبات محمود (جلد 16) — Page 771
خطبات محمود 221 سال ۱۹۳۵ء کہ گو یہ بالکل جھوٹ ہے کہ ہم غیروں پر ظلم کرتے ہیں مگر مخالفوں کو بھی ہماری طاقت اتنی زیادہ نظر آتی ہے کہ انہوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ ہم دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اگر ہماری طاقت میں نمایاں فرق نہ ہوتا تو وہ یہ الزام ہم پر کس طرح لگا سکتے تھے۔ان کا یہ الزام لگا نا بتا تا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں اب احمد یوں کی قادیان میں اتنی طاقت بڑھ چکی ہے کہ اگر ہم ان پر یہ الزام لگائیں کہ یہ غیروں پر ظلم کرتے ہیں تو لوگ اسے ماننے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔غرض مسلمان اگر استقلال سے کام لیں تو اب بھی حقوق حاصل کر سکتے ہیں اور کوئی جھگڑے کی بات نہیں رہتی۔ہم نے قادیان میں ہندوؤں سے نہ فساد کیا نہ جھگڑا بلکہ انہیں یقین دلایا کہ اگر کوئی ہندو دکاندار ہمیں تسلی دلا دے کہ وہ ان جھگڑوں میں شامل نہیں ہوگا تو ہم اس سے بھی معاہدہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔چنانچہ جیسا کہ بتا چکا ہوں ایک ہندو د کاندار نے معاہدہ کیا اور ہم اُس وقت سے برابر ان سے سودا خرید تے چلے آ رہے ہیں وہ صرافے کا کام کرتے ہیں۔اب تو تحریک جدید کے تحت ہم نے زیور بنوانے ترک کر دیئے ہیں لیکن جب تک زیور بنوائے جاتے تھے تو جماعت کے لوگ عموماً انہی سے بنواتے تھے۔اور چونکہ زیورات کو بیچنا اب بھی منع نہیں اس لئے اگر زیور بیچے جاتے ہیں تو اکثر انہی کے پاس۔میرے پاس جو چندے میں زیورات آتے ہیں یا تحریک جدید میں حصہ لینے کے لئے بعض عورتیں اپنے زیور بھیج دیتی ہیں یا صدقہ و خیرات کی مد میں بعض دفعہ زیور آ جاتا ہے ، وہ ہمارا دفتر اکثر انہی کے پاس بھجواتا ہے۔پس ہم نے بائیکاٹ نہیں کیا اور نہ ہم بائیکاٹ کو جائز سمجھتے ہیں۔ہم نے صرف فتنہ سے بچنے کے لئے ایک صورت نکالی تھی جو بالآ خر کا میاب ہوئی۔اسی طرح مسلمان بھی کام کر سکتے تھے اور بغیر آپس کے تعلقات کو خراب کرنے کے کام کر سکتے تھے۔مگر کس چیز نے انہیں کام نہیں کرنے دیا ؟ صرف عدم استقلال نے۔ورنہ مسلمان آج بھی وہ قربانیاں کر سکتے ہیں جو یورپ کے لوگ بھی نہیں کر سکتے۔جس وقت ایک مسلمان کے دل میں غیرت پیدا ہوتی ہے حیرت آتی ہے کہ وہ کس طرح انجام سے لاپر واہ ہو کر کام کر جاتا ہے۔ابھی ایک سکھ لاہور میں مارا گیا ہے۔ایک مسلمان الزام قتل میں ماخوذ ہے اور عدالت میں اس کا معاملہ پیش ہے۔جب وہ عدالت میں پیش ہوا تو اُدھر عدالت اپنا کام کر رہی تھی اور ادھر وہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد یہ زبان سے الفاظ کہتا جا تا اللہ بے پرواہ۔اللہ بے پرواہ۔گویا وہ یہ سمجھتا ہی نہیں تھا کہ عدالت کیا کر رہی ہے اور وہ کس مُجرم میں