خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 772 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 772

خطبات محمود ۷۷۲ سال ۱۹۳۵ء ماخوذ ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اُس نے یہ فعل کیا ہے تو جو کچھ کیا وہ ایک نہایت ہی ظالمانہ فعل تھا اور کسی صورت میں اُس کا کرنا جائز نہیں تھا۔مگر ان حالات سے پتہ لگتا ہے کہ مسلمان اب بھی قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔یہ الگ سوال ہے کہ وہ قربانی غلط کرتے ہیں یا صحیح۔مگر ان میں قربانی کا مادہ موجود ہے اور ضرورت ہے کہ اس مادہ سے فائدہ اُٹھا کر انہیں صحیح قربانیوں پر آمادہ کیا جائے۔اسی طرح مسلمان بالعموم نمازیں نہیں پڑھتے لیکن اگر کوئی نماز پڑھنے پر آ جائے تو وہ ہر وقت نماز پڑھنے میں ہی لگا دیتا ہے۔وظیفہ کرنے پر آ جائے تو ہر وقت مصلی پر بیٹھے وظیفہ ہی کرتا رہے گا اور یہ نہیں سوچے گا کہ کسی اور کام کے کرنے کا بھی خدا نے حکم دیا ہے۔پھر اگر کبھی نماز اور وظیفہ چھوڑ دے گا تو ایسا چھوڑے گا کہ اگر اس سے کبھی کہا جائے کہ نماز پڑھا کرو تو وہ اس پر تمسخر اڑانا شروع کر دے گا۔یہ جذباتی رنگ ہے استقلال والا نہیں۔غرض ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد اور یہ سوچنے کے بعد کہ آخر ہماری جماعت کے افراد بھی دوسری مسلمان قوموں سے نکل کر آئے ہیں اور ان کی خراب عادتیں ان میں بھی پائی جاتی ہوں گی ، میں نے ضروری سمجھا کہ اس قسم کی تحریک کی جائے۔در حقیقت انسانی اعمال کے دو حصے ہوتے ہیں ایک ارادی اور ایک عادی۔ارادی اعمال ایمان سے بدل جاتے ہیں لیکن عادی اعمال اُس وقت بدل سکتے ہیں جب اپنی عادت کو تبدیل کیا جائے۔مثل مشہور ہے کہ کوئی ہندو نیا نیا مسلمان ہوا تھا۔جب بھی وہ کسی مجلس میں بیٹھتا اور کسی قابلِ تعریف یا قابل نفرین بات کا ذکر ہوتا تو اور مسلمان تو سُبحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ يا اَسْتَغْفِرُ اللَّهُ اسْتَغْفِرُ الله کہتے اور یہ رام رام کہنے لگ جاتا۔لوگ اُس پر ناراض ہوتے کہ یہ کیا حرکت ہے؟ جب اور لوگ سُبْحَانَ اللهِ يا اَسْتَغْفِرُ الله کہتے ہیں تم بھی سُبْحَانَ اللهِ يا اَسْتَغْفِرُ الله کو رام رام کیوں کہتے ہو۔آخر جب لوگوں نے اسے بار بار کہا تو ایک دن وہ تنگ آ کر بولا کہ اللہ اللہ دل میں داخل ہوتے ہی داخل ہوگا اور رام رام نکلتے ہی نکلے گا۔اسی طرح لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی مسلمان سخت بھوکا تھا۔ایک جگہ سے وہ گزرا تو اُس نے دیکھا کہ لوگ برہمنوں کو کھانا کھلا رہے ہیں وہ بھی ان میں کھانا کھانے بیٹھ گیا۔مگر جب کھانا شروع کرنے لگا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکل گیا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ۔اِس پر انہوں نے مار مار کرا سے نکال دیا۔تو انسان کے جو عادی اعمال ہوتے ہیں وہ زور کے ساتھ نکلتے ہیں آسانی کے ساتھ نہیں نکل