خطبات محمود (جلد 16) — Page 765
خطبات محمود ۷۶۵ سال ۱۹۳۵ء میں ہی ان کی کافی کھپت ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ ازار بند ، پراندے اور اسی قسم کی کئی دوسری چیز میں ہیں۔گوٹہ کے استعمال سے میں نے روک دیا ہے لیکن اگر باہر اس کی کھپت ہو سکے تو یہ بھی تیار کرایا جا سکتا ہے میں نے جہاں تک عقل کا کام تھا یہ سکیم تیار کی ہے۔باقی تجربہ سے جو حصہ تعلق رکھتا ہے اس کے بارہ میں اس خطبہ کی اشاعت کے بعد تجربہ کا ر دوست اطلاع دیں۔میری تجویز یہ ہے کہ عورت ، مرد، بچہ، بوڑھا ہر ایک کو کسی کام پر لگا دیا جائے اور سوائے معذوروں کے کوئی بریکار نہ رہے۔اس طرح ہجرت کا سامان بھی پیدا ہو سکتا ہے اب تو ہم ہجرت سے روکتے ہیں مگر اس صورت میں باہر سے لوگوں کو بلاسکیں گے۔میں چاہتا ہوں کہ ہم میں سے ہر شخص کما کر کھانے کا عادی ہو۔میرا ارداہ ہے کہ تحریک جدید کے طلباء کو بھی ایسے کام سکھائے جائیں تا ان میں ہاتھ سے کام کرنے کی روح پیدا ہو۔غریب امیر کا امتیاز مٹ جائے اور نوکری نہ ملے تو کوئی پیشہ انکے ہاتھ میں ہو۔پڑھے لکھے لوگ آجکل دس دس روپیہ کی چپڑاس کی نوکری کیلئے ٹکریں مارتے پھرتے ہیں حالانکہ اس طرح کے کاموں سے وہ سو پچاس روپیہ ماہوار کما سکتے ہیں پس ایک دوست اس تجویز کے متعلق مشورہ دیں اور دوسرے نو جوان اپنے آپ کو وقف کریں دیکھو! ایک نوجوان نے اس تحریک پر عمل کر کے دکھا دیا ہے اور گو الفضل المُتَقَدِم کے مطابق پہل کی عزت اُسے مل گئی ہے مگر تم دوسرے نمبر کی عزت کو ہی ضائع نہ کرو۔میں امید کرتا ہوں کہ نوجوان اس سال پہلے سے زیادہ قربانیاں کریں گے اور ایک امتیاز پیدا کر کے دکھائیں گے۔اسد الغابة جلدا صفحہ ۲۳۸،۲۳۷ مطبوعہ ریاض ۱۳۸۴ھ دساور غیر ملک کی منڈی۔سوداگری کا مال جو غیر ملک سے آئے۔(الفضل ۳؍ دسمبر ۱۹۳۵ء)