خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 738 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 738

خطبات محمود ۷۳۸ سال ۱۹۳۵ء کی طرف سے ان کی زبانوں کو برکت دی جاتی ہے۔اور بسا اوقات جب کوئی فقرہ ان کی زبان پر جاری کیا جاتا ہے تو گو وہ الہامی الفاظ نہیں ہوتے مگر آئندہ رونما ہونے والے واقعات کے متعلق خدا تعالیٰ ان میں پیشگوئی رکھ دیتا ہے جو اپنے وقت پر پوری ہوتی اور لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔پس میں نے قبل از وقت آپ لوگوں کو ہوشیار کر دیا تھا چنانچہ ایک مجلس شوری کے موقع پر میں نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج سے دس سال کے اندر اندر ہندوستان میں ایسا تغیر ہونے والا ہے جو سچ اور جھوٹ کا فرق کھول کر رکھ دے گا اور دنیا پر یہ روشن کر دے گا کہ کس جماعت کو ہندوستان میں زندہ رہنا چاہئے اور کس کو نہیں۔اب تم دیکھتے ہو کہ تمہارے ساتھ ایک آخری جنگ شروع ہے۔تمام دنیا تمہاری مخالف ہو رہی ہے اور ہر جھوٹ تمہارے خلاف بولا جاتا ہے اگر آج بھی تم اپنے اندر تغیر پیدا نہیں کرتے ایسا تغیر جو تمہاری صورتوں کو بدل دے، ایسا تغیر جو تمہارے حالات کو بدل دے، اور ایسا تغیر جو تمہارے قلوب میں اللہ تعالیٰ کی لازوال محبت پیدا کر دے تو تم کبھی بھی ان فضلوں اور انعامات کے وارث نہیں ہو سکتے جو صحابہ کو ملے۔تم نے احمدیت میں داخل ہو کر آخر کیا لیا ؟ کیا احمدیت کو قبول کرنے کی وجہ سے تمہیں زمینیں مل گئیں ؟ یا احمدیت کو قبول کرنے کی وجہ سے تمہیں باغات مل گئے ؟ یا احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے تمہیں خطاب اور عہدے مل گئے ؟ اگر سوائے اس کے کہ احمدیت میں داخل ہو کر تم نے لوگوں سے گالیاں لیں اور ماریں کھا ئیں اور کچھ نہیں لیا تو کیا یہی چیز تھی جس کے لینے کے لئے تم احمدیت میں داخل ہوئے تھے ؟ اگر یہ عشق کی مار ہے تو اس سے بڑھ کر اور کوئی قیمتی چیز نہیں۔اور اگر یہ ذلت کی مار ہے، کمزوری کی مار ہے تو اس سے بڑھ کر ذلیل بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان کی نہ اپنوں کی نگاہ میں عزت رہے نہ بیگانوں کی نگاہ میں۔پس اس حقیقت کو سمجھو اور ان حالات کو سمجھنے کی کوشش کرو جن میں اس وقت تم مبتلاء ہو اور چاہئے کہ تم میں سے ہر شخص عہد کرے کہ وہ دنیا کے لئے ایسا ہی اہم وجود بن کر رہے گا جیسے قطب ستارہ اہمیت رکھتا ہے۔سورج کتنا بڑا ہے مگر وہ قطب کی طرف جھکا ہوا ہے زمین کتنی بڑی ہے مگر وہ قطب کی طرف جھکی ہوئی ہے ،ستارے کتنے بڑے ہیں مگر وہ سب قطب کی طرف جھکے ہوئے ہیں گویا قطب کے سامنے ہر ایک ستارے اور سیارے کو مؤدب ہو کر کھڑا ہونا پڑتا ہے پس جب تک تم اللہ تعالیٰ کے لئے اپنے دل میں اتنا عشق اور اتنی محبت