خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 726 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 726

خطبات محمود ۷۲۶ سال ۱۹۳۵ء کے شہروں میں غیر مسلموں کے داخل ہونے سے اسلام نے منع نہیں کیا کیونکہ مکہ مسلمانوں کا ایک مقدس مقام ہے مگر شام کو مقدس ماننے میں اس کے ساتھ مسیحی اور یہودی بھی شامل ہیں۔مکہ، مدینہ مرکز ہیں اسلام کا۔اور جب کوئی جماعت اپنا ایک مرکز قائم کرتی ہے تو اس کے لئے ایک ماحول کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے ادب اور احترام کو قائم رکھا جائے۔پس جبکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد اور ان سے اُتر کر قادیان ہمارا مقدس مقام ہے۔اور جبکہ رسول کریم ﷺ کے بروز اور آپ کے نائب اور آپ کے خلیفہ اور آپ کے وجود کو اپنے اندر ظاہر کرنے والے مظہر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سلسلہ کی ترقی اور اس کی عظمت کے لئے قادیان کو مرکز مقرر کیا ہے تو یقیناً ہمارا حق ہے کہ ہم مطالبہ کریں کہ وہ ہمارے اس مقدس مقام کو اپنے وحشی مظاہروں سے پاک رکھیں۔یہ وہ مسئلہ ہے جسے قرآن مجید نے پیش کیا ، یہ وہ اصل ہے جسے اسلام نے دنیا سے منوایا ، اور یہ وہ دلیل ہے جس کی وجہ سے رسول کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو غیر مسلموں سے آزاد کرایا۔اگر اس اصل کو تم ایک جگہ تسلیم کرتے۔اور دوسری جگہ رڈ کر دیتے ہو تو تم دنیا کو کس طرح کہہ سکتے ہو کہ ہمارا تو یہ حق ہے کہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو غیر مسلموں سے پاک رکھیں لیکن اگر ہندو ایک مقام کو مقدس قرار دیں تو وہ اسے غیروں سے پاک نہیں رکھ سکتے۔اگر تم یہ کہتے ہو کہ ہمارا تو یہ حق ہے کہ ہم اپنے مقدس مقامات کو غیروں کے مظاہرات اور ان کی دخل اندازی سے پاک رکھیں لیکن ہم یہودیوں کے تسلیم کردہ مقدس مقامات کے متعلق یہ اصل تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔اگر تم کہتے ہو کہ ہمارا تو یہ حق ہے کہ اپنے مقدس مقامات میں غیر مسلموں کو نہ آنے دیں مگر عیسائیوں کے تسلیم کردہ مقدس مقامات کے متعلق یہ نظریہ تسلیم کرنے کے لئے ہم تیار نہیں۔اگر تم یہ کہتے ہو کہ ہمارا تو یہ حق ہے کہ اپنے مقدس مقامات کو غیر عناصر سے پاک رکھیں مگر پارسیوں کے تسلیم کردہ مقدس مقامات کے متعلق ہم یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں تو یقیناً ہر عقل مند سمجھ جائے گا کہ تم دانائی سے کام نہیں لیتے۔اور سب سمجھیں گے کہ تم پاگل ہوا اور دھینگا مشتی سے کام لے رہے ہو پس قرآن کریم سے ثابت ہے کہ حرم وہ مقام ہے جس میں کوئی غیر مسلم نہیں آ سکتا سوائے اس کے کہ وہ آنے کی اجازت لے لے اور نرمی اور محبت کے ساتھ آئے دیکھو اسی سورۃ کے شروع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ