خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 725 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 725

خطبات محمود ۷۲۵ سال ۱۹۳۵ء قرار دیا ہے۔پس اس میں جماعت احمدیہ کو جو حق حاصل ہے وہ احرار کو کہاں حاصل ہوسکتا ہے۔یہ تو ویسی ہی بات ہے جیسے اگر کسی ناولسٹ پر گورنمنٹ مقدمہ چلائے تو وہ کہہ دے کہ اگر میری کتاب پر مقدمہ چلایا گیا ہے تو قرآن کریم ، انجیل اور ویدوں پر بھی مقدمہ چلایا جائے حالانکہ ایک عام کتاب کو الہامی کتاب سے نسبت ہی کیا ہے کہ ایک کا دوسری سے مقابلہ کیا جائے۔اسی طرح قادیان کے متعلق احمدیوں کے جو جذبات ہیں وہ احرار کے جذبات کہاں ہو سکتے ہیں کہ دونوں سے یکساں سلوک اور برتاؤ کا مطالبہ جائز قرار دیا جاسکے۔پچھلے سال جو یہاں کا نفرنس ہوئی اس میں مولوی عطا اللہ صاحب نے کہا کہ قادیان کی زمین لعنتی ہے۔جب ان کے نزدیک قادیان کی لعنتی زمین ہے تو یہاں ان کے آنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟ اور کیا جن کے نزدیک قادیان کی زمین نَعُوذُ بِالله لعنتی ہو وہ یہ حق رکھتے ہیں کہ قادیان کے متعلق احمدیوں کے جذبات اور اپنے جذبات کا مقابلہ کریں؟ اور باوجود اس امر کے کریں کہ اسلام نے اس امر کے متعلق ہماری راہنمائی کی ہوئی ہے۔یہی سورۃ تو بہ جس کا ایک رکوع میں نے اس وقت پڑھا ہے اس میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ حرم اور اُس کے گردو نواح میں مشرک لوگ نہ آنے پائیں۔اب کیا اس حکم کو دیکھ کر ہند و کہ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک سے مسلمان نکل جائیں کیونکہ ہمیں حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔یا چینی کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک سے مسلمان نکل جائیں کیونکہ ہمیں حرم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔یا روسی کہہ سکتے ہیں کہ مسلمان ہمارے ملک سے نکل جائیں کیونکہ ہمیں حرم میں داخل ہونے نہیں دیا جاتا۔یا انگریز کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک سے مسلمان نکل جائیں کیونکہ ہمیں حرم میں داخل ہونے نہیں دیا جاتا۔یا امریکن کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ملک سے نکل جائیں کیونکہ ہمیں حرم میں داخل ہونے سے روکا جاتا ہے۔یہ ایک ایسی موٹی بات اور اسلام کا ایسا قائم کردہ اصل ہے کہ کوئی شخص یہ جہالت نہیں کر سکتا کہ اس قسم کا مطالبہ کرے۔مگر انہوں نے اسلام کا مطالعہ کیا ہوتا تو ایسے کہتے ہی کیوں۔جب اسلام کا انہوں نے کبھی مطالعہ ہی نہیں کیا تو یہ بات انہیں کہاں سمجھ میں آ سکتی ہے۔غرض اسلام نے اس اصل کو تسلیم کیا ہے کہ جو کسی مذہب کا مقدس مقام ہواُس میں اُس کے خاص حقوق تسلیم کئے جائیں گے۔اسلام نے مکہ اور مدینہ کوحرم قرار دے کر مکہ اور شام کے شہروں میں فرق کیا ہے۔اسلام نے یہ اجازت نہیں دی کہ مکہ میں کوئی غیر مسلم داخل ہو مگر شام