خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 687 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 687

خطبات محمود ۶۸۷ سال ۱۹۳۵ء ہے کہ ہم صبر سے کام لیں۔سوائے اس کے کہ میں یہ تسلیم کروں کہ حکومت دل میں ہمارے اخلاق کی برتری اور ہمارے صبر کی غیر معمولی قوت کی قائل ہے مگر اب صبر کا پیمانہ اچھلنے لگ گیا ہے اور اب میں مجبور ہوں کہ جماعت کو اجازت دے دوں کہ وہ قانون کے اندر رہتے ہوئے گورنمنٹ نے جو تشریح احمدیت کے متعلق قانون کی کی ہے، اس کی روشنی میں اپنے مخالفوں کے حملوں کا جواب دیں اور قانون کے اندر رہتے ہوئے جواب دیں۔مگر باوجود اس کے کہ ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے ان پر حملہ کریں گے ہم جانتے ہیں کہ وہ صبر نہیں کر سکیں گے۔ان کے صبر اور ہمارے صبر میں بہت بڑا فرق ہے۔ہم نے جوصبر کیا ہے اُس کی قدر و وقعت کو گورنمنٹ سمجھے یا نہ سمجھے لیکن تم کسی غیر جانبدار شخص کے سامنے یہ تمام حالات رکھ دووہ یہ باور کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہو گا کہ احمدیوں نے ان حالات میں صبر کیا۔انگریز اپنی رواداری کا بہت بڑا دعویٰ کرتے ہیں مگر ہم نے ان کا صبر بھی دیکھا ہوا ہے۔ولایت میں جب میں گیا تو عیسائیت کے خلاف ہم نے ایک ٹریکٹ لکھا جسے سینٹ پال کے گر جا کے سامنے تقسیم کرنے کے لئے بھیجا۔جب وہ اشتہار تقسیم ہو رہا تھا تو ایک لارڈ نے اسے دیکھ کر اپنی آستینیں چڑھالیں اور کہنے لگا جس نے اب یہ اشتہار تقسیم کیا میں اُسے ملے مار مار کر سیدھا کروں گا حالانکہ اُس میں گالیاں نہیں تھیں بلکہ دلائل تھے پس ہم نے جوصبر کیا ہے دنیا میں اُس کی کہیں مثال نہیں مل سکتی۔لیکن ہم کہاں تک صبر کرتے چلے جائیں۔ہم اپنے صبر کو اب بے غیرتی سے بدلنے کے لئے تیار نہیں۔حکومت کو بھی امن تبھی نصیب ہو سکتا ہے جب وہ طرفین سے مساوی سلوک کرے۔ہم نے کبھی اس سے رعایت طلب نہیں کی اور نہ آئندہ طلب کریں گے ہم جو کچھ چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یا تو گورنمنٹ ان گالیاں دینے والوں کا منہ بند کرے اور اگر وہ اس کے لئے تیار نہیں تو گورنمنٹ ہمیں کہہ دے کہ تمہیں جوابی رنگ میں سخت الفاظ کے استعمال کی اجازت ہے پھر ہمیں اس سے کوئی شکایت نہیں رہے گی۔اور اگر ہم اس کے بعد بھی گورنمنٹ سے کوئی شکایت کریں تو وہ جتنا چاہے ہمیں ذلیل اور رسوا کرے۔اور کہے کہ یہ کیسے بے غیرت انسان ہیں کہ ہم انہیں مقابلہ کی اجازت دیتے ہیں مگر یہ پھر ہمارے پاس آتے ہیں۔لیکن گورنمنٹ ہمارے ہاتھوں کو روکتی ہے ،گورنمنٹ ہماری زبانوں کو روکتی ہے اور گورنمنٹ ہمارے قلموں کو روکتی ہے لیکن وہ دوسرے فریق کو کھلا چھوڑ رہی ہے۔ہماری جماعت کے ایک رسالہ کو گزشتہ ایام میں ضبط کیا گیا جب اس کے متعلق بعض افسروں سے پوچھا گیا کہ