خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 681 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 681

خطبات محمود ۶۸۱ سال ۱۹۳۵ء اسے اس سے کیا کہ اصل واقعہ کیا ہے۔بے حیا باش خواہی کن و هر چه جب انسان بے حیا بن جائے تو پھر جو جی میں آئے کہتا پھرے۔اس کے بعد یہ شخص بیان کرتا ہے۔آپ سیالکوٹ سے سیدھے آلو مہار پہنچے وہاں پیر چن شاہ سے آپ کی ملاقات ہوئی اور آپ نے دریافت کیا کہ کیا آجکل کوئی نبی بھی بن سکتا ہے؟ انہوں نے انکار کیا تو مرزا صاحب نے کہا " نہیں جناب ! جب انسان ذرا ڈھیٹھ بن جائے تو نبی بن سکتا ہے“ یہ وہ انتہاء درجہ کی فتنہ پردازی ہے جو اس وقت ہماری جماعت کے خلاف کی جارہی ہے۔جہاں اس قسم کے بے دین اور بے حیا لوگ موجود ہوں وہاں اخلاق بھلا کہاں باقی رہ سکتے ہیں۔اس قسم کی افتراء پردازی کا بجز اس کے کچھ منشاء نہیں کہ لوگوں میں اشتعال پیدا کیا جائے اور انہیں بتایا جائے کہ نَعُوذُ بِاللهِ حضرت مرزا صاحب کے نزدیک جس قدر نبی آئے سب ڈھیٹھ تھے۔یہ محمد مظہر آج ہمیں بتا تا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیالکوٹ کے بعد آلو مہار گئے۔اور سید چنن شاہ سے ملے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا تھا اُس وقت ان پیر چنن شاہ کی زبان کیوں بند رہی اور وہ نہ بولے اور انہوں نے آپ کے متعلق یہ انکشاف نہ کیا مگر اُس زمانہ کے ستر سال کے بعد آج ایک شخص محمد مظہر نامی جو اُس وقت پیدا بھی نہیں ہوا تھا یہ روایت سنا رہا ہے۔آخر ستر سال کے بعد یہ روایت کہاں سے پیدا ہوئی ؟ یقیناً واقدی کی ذریت ہی ایسی روایت وضع کر سکتی ہے ورنہ چاہئے تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوی کیا تھا اُسی وقت یہ آلومہار والے پیر صاحب آپ کو مباہلہ کا چیلنج دیتے اور اس بات کو پیش کر کے حقیقت کو ظاہر کرتے لیکن وہ خاموش رہتے ہیں اور ستر سال کے بعد ایک شخص اس جھوٹ کا اعلان کرتا ہے جس سے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ جھوٹ ان پیر صاحب نے نہیں بنایا، اس سیدمحمد مظہر نامی شخص نے بنایا ہے اور صاف ظاہر ہے کہ اس قسم کی باتوں سے مسلمانوں کو یہ دھوکا دینا مطلوب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تمام انبیاء کو نَعُوذُ بِاللہ فریبی سمجھتے تھے۔اور آپ کا یہ خیال تھا کہ انسان اگر ذرا ڈھیٹھ بن جائے تو نَعُوذُ بِاللهِ نبی بن سکتا ہے۔پھر یہ شخص کہتا ہے کہ وہاں سے آپ سیدھے لا ہور آئے اور لاہور سے قادیان اور یہاں آ کر دعوی کی بنیاد رکھ دی۔حالانکہ آپ کی سیالکوٹ کی رہائش کے بیس سال بعد براہین احمدیہ