خطبات محمود (جلد 16) — Page 674
خطبات محمود ۶۷۴ سال ۱۹۳۵ء ہیں۔مؤمن دنیا میں کسی چیز سے قید نہیں کیا جاسکتا لیکن اگر چاہو تو تم اسے اخلاق سے قید کر سکتے ہو۔اخلاق کی حکومت کی کیا لطیف مثال ہے جس کا حدیثوں میں ذکر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب صلح حدیبیہ کے لئے تشریف لے گئے تو مکہ کا ایک رئیس کفار کی طرف سے آپ سے گفتگو کرنے کیلئے آیا۔وہ مکہ والوں کا اتنا بڑا احسن تھا کہ اس کا دعوی تھا کہ مکہ کا کوئی آدمی ایسا نہیں جس پر میرا کوئی احسان نہ ہو۔یہ شخص اپنے آپ کو وادی مکہ کا باپ سمجھتا تھا۔اور یہی شان دکھانے کے لئے اُس نے رسول کریم ﷺ کی ڈاڑھی کو ہاتھ لگایا اور کہا میں تم سے کہتا ہوں کہ یہ لوگ جو تم نے اپنے ارد گرد جمع کر لئے ہیں تمہارے کام نہیں آئیں گے آخر تمہاری قوم ہی ہے جو تمہارے کام آئے گی۔پس تم اپنی قوم کی بات مان لو جونہی اُس نے رسول کریم ﷺ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا یا ایک صحابی نے زور سے اپنی تلوار کا کندہ اُس کے ہاتھ پر مارا اور کہا ہاتھ پرے کر ، کیوں تو اپنا نا پاک ہاتھ رسول کریم کے مقدس جسم سے چھوتا ہے۔اُس نے نظر اٹھائی اور کہا کیا تو وہ شخص نہیں جس کے خاندان پر فلاں موقع پر میں نے احسان کیا تھا؟ یہ سخت نازک موقع تھا مگر احسان کا لفظ سن کر اُس صحابی کی آنکھیں نیچی ہو گئیں اور وہ جھٹ پیچھے ہو گیا۔تب اُس نے سمجھا کہ اب میں نے میدان صاف کرلیا۔تب اُس نے وہی بات کہہ کر رسول کریم ﷺ کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا۔اس پر پھر ایک صحابی نے بڑے زور سے تلوار کا کندہ اُس کے ہاتھ پر مارا اور کہا کیوں تو اپنے ناپاک ہاتھ رسول کریم کے مقدس جسم سے چُھوتا ہے؟ اُس نے نظر اٹھائی مگر دیکھ کر نگاہ نیچی کر لی اور کہا تمہارے خلاف میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ تم پر میرا کوئی احسان نہیں۔یہ دوسرے شخص حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے۔۔تو مؤمن اگر قید کیا جا سکتا ہے تو احسان سے۔ایک دفعہ کسی جنگ میں ایک شخص کفار کی طرف سے لڑائی میں شامل ہوا تو رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو بلایا اور فرمایا دیکھنا لڑائی میں فلاں شخص بھی شامل ہے یہ میرے ساتھ اچھا سلوک کیا کرتا تھا اور جب مکہ والے میری مخالفت کرتے اور سخت ایذا ئیں دیا کرتے تھے تو یہ پوشیدہ طور پر میری مدد کیا کرتا ،اُس کا خیال رکھنا۔سم گر چہ مہاجر اس سے واقف تھے مگر چونکہ انصار واقف نہ تھے اور وہ بھی جنگ میں شامل تھے ، اس لئے انہیں بتانے کے لئے رسول کریم علیہ نے یہ فرمایا۔اسی طرح حنین کی جنگ جس میں مسلمانوں کو بوجہ اس کے کہ مکہ کے نو مسلم بھی اس میں شامل ہو گئے تھے بہت بڑا نقصان پہنچا تھا۔