خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 675 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 675

خطبات محمود ۶۷۵ سال ۱۹۳۵ء یہاں تک کہ ایک موقع پر رسول کریم ﷺ کی ذات مبارک بھی خطرے میں پڑ گئی تھی اور چار ہزار تجربہ کار تیر اندازوں کے نرغہ میں رسول کریم ﷺ آگئے تھے اور صرف چند صحابہ آپ کے ساتھ رہ گئے تھے ایسی خطرناک جنگ کے ختم ہونے کے بعد جس میں بہت سے مسلمان مارے گئے تھے آخر دشمن قید کر لئے گئے۔اور ان کے اموال پر قبضہ کر لیا گیا۔یہ قید ہونے والے اُس قوم میں سے تھے جس میں رسول کریم ﷺ بچپن میں رہے۔اور جس قوم کی ایک عورت کا آپ نے دودھ پیا تھا۔کفار نے صل الله آپس میں مشورہ کرنے کے بعد رسول کریم ﷺ کی رضاعی بہن سے کہا کہ تو جا اور رسول کریم سے ہماری سفارش کر۔ان میں سے خود کوئی رحم کی درخواست کی بھی جرات نہیں کرتا تھا کیونکہ انہوں نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔جب رسول کریم ﷺ کی رضاعی بہن آپ کے پاس آئی اور اُس نے کہايَا رَسُولَ اللہ میں آپ کے پاس ایک کام سے آئی ہوں۔تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا بہن ! میں تو تیرا ایک مہینہ تک انتظار کرتا رہا تا تو سفارش کے لئے آئے تو مجھے تیری سفارش رڈ نہ کرنی پڑے مگر ایک مہینہ کے انتظار کے بعد میں نے غنیمت کا مال مسلمانوں میں تقسیم کر دیا ہے۔اب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ تم لوگ ایک چیز چن لو یا مال یا قیدی۔اگر مال کہو تو میں واپس دلوا دیتا ہوں اور اگر قیدی کہو تو انہیں چھڑوا دیتا ہوں۔دونوں میں سے جو بھی صورت پسند ہو بتا دو۔انہوں نے اپنے قبیلہ سے مشورہ کیا تو فیصلہ کیا ہمیں مال نہیں چاہئے ، قیدی دے دیئے جائیں۔رسول کریم علیہ نے صحابہ کو بلایا اور فرمایا میں نے اس قوم میں دودھ پیا ہے کیا تم اس تعلق کی وجہ سے ان کے قیدی چھوڑ سکتے ہو؟ انہوں نے کہا یا رَسُولَ اللہ ! ہمیں اس سے زیادہ خوشی اور کس میں ہو سکتی ہے چنانچہ انہوں نے سب قیدی رہا کر دئے تو مؤمن کو طاقت اور تعداد ڈرا نہیں سکتی بلکہ جتنا زیادہ اسے ڈاریا اور دھمکایا جائے اور جتنا زیادہ اُس پر دباؤ ڈالا جائے ، اتنا زیادہ ہی وہ اونچا ہوتا ہے مگر جتنا زیادہ اس کے سامنے جھکو اتنی ہی زیادہ وہ محبت کرتا ہے۔یہی شرافت کے اخلاق ہیں جنہیں انبیاء دنیا میں قائم کیا کرتے ہیں ، یہی شرافت کے اخلاق ہیں جو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعتوں میں موجود ہوتے ہیں ، یہی شرافت کے اخلاق ہیں جن سے وہ دنیا میں عزت و وقعت کی نگاہ سے دیکھی جاسکتی ہیں اور یہی شرافت کے اخلاق ہیں کہ اگر اُن میں نہ پائے جائیں ، تو انہیں دوسروں سے کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا