خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 641 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 641

خطبات محمود ۶۴۱ سال ۱۹۳۵ء ہے، رند اوستا کا حجم بڑا ہے، بائبل کا حجم بڑا ہے مگر قرآن مجید کا حجم ان کتب میں سب سے چھوٹا ہے جو الہامی ہونے کا دعویٰ رکھتی ہیں۔پھر اس کے پڑھنے اور سمجھنے میں کیا مشکل ہے ؟ ضرورت صرف ارادہ کی ہوتی ہے اگر پختہ ارادہ کر لیا جائے تو کوئی مشکل نہیں رہتی۔ہم نے کئی لوگوں کو دیکھا ہے انہوں نے بڑی عمر میں قرآن کریم کو پڑھنا اور سمجھنا شروع کیا اور آخر پڑھ گئے۔پس ہر ایک شخص کو چاہئے خواہ وہ بڑی عمر کا ہے کہ قرآن مجید پڑھے۔اور اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ وہ سمجھتا ہے اب بڑی عمر میں اُس کے لئے قرآن پڑھنا مشکل ہے تو کم از کم اپنی اولا د کو تو پڑھائے۔پچھلے سال میں نے اعلان کیا تھا کہ نوجوان اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں۔اس پر بیسیوں نوجوانوں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا یہ وقف نہایت خوشکن تھا مگر جب وہ یہاں آئے اور یہ پتہ لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ ان میں سے کئی ایسے ہیں جو قرآن مجید کا ترجمہ تک نہیں جانتے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس وقت تک ہم صرف چار نو جوانوں کو ممالک غیر میں تبلیغ کے لئے بھیج سکے ہیں باقیوں کو ہم قرآن مجید پڑھوا رہے ہیں تا کہ وہ بھی تبلیغ کے لئے تیار ہوسکیں۔اب بتاؤ کسی کے پاس تلوار نہیں تو وہ لڑے گا کس طرح ؟ ہماری تلوار تو قرآن مجید ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَجَاهِدُ هُمُ بِهِ جِهَادًا كَبِيرً ا سیر قرآن مجید تمہارے لئے تلوار ہے اس سے جہاد کرو۔جس شخص کے پاس تلوار نہ ہوگی اور وہ میدانِ جنگ میں چلا جائے گا وہ بجز اپنی گردن کٹوانے کے اور کیا کر سکتا ہے۔مگر مؤمن کا کام یہ نہیں کہ وہ اپنی گردن کٹوادے بلکہ اس کا کام تو دنیا میں اشاعت اسلام کرنا ہے اور ان مسائل کا پھیلانا ہے جو قرآن کریم نے بتلائے۔اگر صحابہ کو کہا جاتا کہ مؤمن کا کام صرف اپنی گردن کاٹنا ہے تو وہ ایک دن میں ہی ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ دیتے اور اپنے فرض سے عہدہ برآ ہو جاتے مگر انہیں یہ نہیں کہا گیا بلکہ ان کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ کفار کے دلوں سے گند نکالیں اور انہیں آستانہ اسلام پر جُھکا دیں۔یہی کام اب ہمارے سپرد کیا گیا ہے اور اسی کا نام جہاد کبیر ہے ورنہ اپنی گردن کاٹ دینا یا دوسروں کی گردن اُتار دینا یہ کونسا مشکل کام ہے۔پس مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ وہ لوہے کی تلوار سے کفار کا گلا کاٹیں اور نہ صحابہ کے ذمہ یہ کام تھا۔صحابہ تلوار صرف دفاع کے طور پر اُٹھاتے تھے انہیں اصل حکم یہی تھا کہ فَجَاهِدُ هُم بِهِ جِهَادًا كَبِيرًا۔قرآن کریم کی تعلیم کی اشاعت کرو اور اس کے احکام کے ذریعہ کفار سے جہاد کرو۔پس