خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 636 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 636

خطبات محمود ۶۳۶ سال ۱۹۳۵ء تو قرآن کریم کی اشاعت کے لئے بھی دو باتیں نہایت ضروری ہیں۔ایک یہ کہ قرآن کریم سمجھنے والے موجود ہوں اور دوسرے یہ کہ قرآن کریم سمجھانے والے موجود ہوں۔یہ بھی ضروری ہے کہ عربی زبان آتی ہو۔لیکن ایک شخص کو اگر زبان آتی ہو اور وہ دروازے بند کر کے بیٹھ جائے تو اس سے دوسروں کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ یا فرض کرو ایک شخص منطق اور فلسفہ جانتا ہے لیکن وہ سارا دن ہل چلاتا رہتا یا سو دا فروخت کرتا رہتا ہے یا اُسے دوسروں کو پڑھانے کی خواہش ہی نہیں تو اُس کے علم سے دوسرے کس طرح فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔تو دوسروں کو علم سکھانے کے لئے صرف یہی ضروری نہیں کہ انسان کی زبان چلتی ہو بلکہ اور بہت سی باتوں کی ضرورت ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ زبان آتی ہو، یہ بھی ضروری ہے کہ سمجھا سکتا ہو ، یہ بھی ضروری ہے کہ اُس کی خواہش ہو اور وہ اپنے وقت کو دوسروں کی خاطر صرف کرنے کے لئے تیار ہو ، پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی طرز پر کام کرے جو دل نشین ہو اور لوگوں پر اثر انداز کرنے والی ہو۔اچھی سے اچھی بات اگر بے موقع اور بے محل کہہ دی جائے تو بہت بُرا نتیجہ پیدا کر دیتی ہے۔۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول اپنے ایک داماد کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ وہ ایک مجلس میں بیٹھا تھا۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل بھی وہیں موجود تھے کہ آپ سے ملاقات کرنے کے لئے ایک مسلمان رئیس آیا۔جس طرح عام مسلمان شریعت کی باریکیوں پر عمل نہیں کرتے ،صرف ظاہری باتوں کا لحاظ رکھتے ہیں ، قرآن کریم کا ظاہری طور پر ادب کرنا اور رسول کریم کا نام ادب سے لینا وہ اسلام کا ماحصل سمجھتے ہیں اسی طرح کا وہ رئیس بھی مسلمان تھا مگر چونکہ وہ آدمی مالدار تھا اِس لئے اُسے اپنے وقار کا بھی خیال تھا۔جب وہ مجلس میں آیا تو اُس کا پاجامہ ٹخنوں سے ذرا نیچے تھا۔حضرت خلیفہ الاول فرماتے تھے کہ یہ دیکھ کر میرے داماد نے وہ مسواک جو اُس کے ہاتھ میں تھی اُٹھائی اور نہایت عجیب طرز سے منہ بنا کر اُس رئیس کے ٹخنے پر ماری اور کہا۔هَذَا فِي النَّارِ - مطلب یہ کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کا از ارٹخنوں سے نیچار ہے وہ حصہ آگ میں جلایا جاتا ہے۔وہ بڑا آدمی تھا نوکر اُس کے ارد گرد بیٹھے تھے جو نہی اُس نے مسواک ماری اُس رئیس کا رنگ متغیر ہو گیا اور وہ کہنے لگا تجھے کس بے وقوف نے بتایا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔اب اپنی طرف سے تو اُس نے سمجھانے کی کوشش کی تھی اور خیال کیا تھا کہ اس کے نتیجہ میں آئندہ وہ ایسا نہیں کرے گا مگر سمجھانے کا طریقہ نہ جاننے کی وجہ سے اس نے رئیس کی ہتک کر دی۔اور نتیجہ یہ نکلا کہ جو ظاہری