خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 618 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 618

خطبات محمود ۶۱۸ سال ۱۹۳۵ء وجہ سے شادی تک نہیں کرتیں۔کئی عورتیں ، مرد ایسے ہیں جنہوں نے کوڑھیوں کا علاج ، ان کی پرورش اور ان کی رہائش کا ذمہ لیا ہوا ہے چنانچہ مدراس ، پنجاب اور بنگال میں جہاں جہاں کوڑھ ہوتا ہے ایسے ہسپتال بنائے گئے ہیں جہاں یہ لوگ ان کی خدمت کرتے اور ان کے کھانے پینے اور پہنے کا بند و بست کرتے ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو تعلیم کی طرف لگے ہوئے ہیں انہوں نے ہندوستان میں مدر سے اور کالج کھول رکھے ہیں، کچھ لوگ ایسے ہیں جو صنعت و حرفت کی طرف متوجہ ہیں اور انہوں نے یہی شغل رکھا ہوا ہے کہ لوگوں کو مختلف پیشے سکھائیں۔پھر کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ غرباء کی مدد کرتے ہیں اور انہوں نے ایسی سوسائٹیاں بنائی ہوئی ہیں جو غریبوں اور یتامیٰ و مساکین کی خبر گیری کرتی ہیں۔کئی مؤمن نما لوگ ناک بھوں چڑھا کر کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ لوگ سب کچھ اپنی شہرت یا اپنے ملک کے مفاد کی خاطر کرتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا جس کے ذمہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہی فرائض عائد ہوں، اسے ان لوگوں سے زیادہ جوش اور عمدگی کے ساتھ کام کرنا چاہئے یا نہیں ؟ اگر ایک اپنے ملک سے محبت کرتا ہے اور اس وجہ سے وہ مخلوق کی خیر خواہی کے کاموں میں حصہ لیتا ہے۔اگر ایک شخص اپنی قوم سے محبت کرتا ہے اور اس وجہ سے یتامیٰ اور مساکین کی خبر گیری کرتا ہے ، اگر ایک شخص عزت چاہتا ہے اور اس کے حصول کے لئے غریبوں سے ہمدردی کرتا ہے تو کیا مومن اپنے خدا سے محبت نہیں کرتا کہ اسے ان امور کی ضرورت نہیں ؟ یہ کہہ دینا کہ وہ لوگ یہ کام اپنے ملک کے فائدے کیلئے کرتے ہیں یا قوم کے فائدے کے لئے کرتے ہیں کوئی جواب نہیں بلکہ یہ الزام کو اور زیادہ قوی کر دیتا ہے کیونکہ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ یہ قوم کی عزت کے لئے غرباء سے ہمدردی کرتے یا رفاہ عام کے کاموں میں حصہ لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے محبت کرتے ہیں۔یا جب وہ یہ کہتا ہے کہ وہ اپنے ملک کے مفاد کے لئے ایسے کاموں میں حصہ لیتے ہیں تو گویا وہ تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں۔یا جب وہ کہتا ہے کہ فلاں لوگ اپنی ذاتی شہرت وعزت کے لئے سب کچھ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات سے محبت رکھتے ہیں۔مگر وہ شخص جو مدعی ہو اس بات کا کہ وہ اپنی ذات سے بڑھ کر خدا سے محبت کرتا ہے، اپنی قوم سے بڑھ کر خدا سے محبت کرتا ہے اور اپنے ملک کی محبت سے بڑھ کر خدا سے محبت کرتا ہے یہ فقرہ کہہ کر اس کی عزت کہاں رہ سکتی ہے۔دوسرے الفاظ میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہ قوم سے محبت کرنے والا تو