خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 555

خطبات محمود ۵۵۵ سال ۱۹۳۵ء سے اعلیٰ اور مقدس سمجھتے ہیں ؟ ان دونوں امور کے لئے میں نے مباہلہ کا چیلنج دیا تھا کیونکہ ہم پر یہ ایک مذہبی اتہام ہے اور اس بارہ میں ان کا جھوٹ بہت سے لوگوں کو گمراہ کر سکتا ہے۔میں نے ان کے اخبار میں پڑھا ہے کہ مولوی مظہر علی صاحب اظہر قادیان آئیں گے اور یہاں آکر اس کا جواب دیں گے۔میں نہیں سمجھتا جو جواب وہ یہاں آکر دیں گے وہ کس طرح درست ہو سکتا ہے۔میرا خطبہ تو اخبار میں چھپ جاتا ہے اور اس طرح وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا اخباروں میں کوئی مضمون چھاپ دیا جائے۔بلکہ مجھے اس میں سہولت ہوتی ہے میں بولتا جاتا ہوں اور لکھنے والے لکھتے جاتے ہیں۔مگر اس کا جواب وہ آجکل کوئی نہیں دیتے بلکہ اعلان کرتے ہیں کہ ۱۳ تاریخ کو قادیان آ کر مسجد میں جواب دیں گے۔اس مسجد میں کہ جس میں جب ہمارا ر پورٹر رپورٹ لینے کے لئے گیا تو پولیس کے ذریعہ اُسے نکال دیا گیا اور گرفتار کر لینے کی دھمکی دی گئی۔وہ دھمکی جس کے متعلق مسٹر بائڈ نے کونسل کے ایک ممبر کو جواب دیا ہے کہ کبھی بھی کسی احمدی کو اس مسجد میں جانے سے نہیں روکا گیا۔حالانکہ اس بات کو کہ احمدی رپورٹروں کو روکا گیا یہاں کے سینکڑوں لوگ جانتے ہیں اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ حکومت کے سامنے کس قسم کی رپورٹیں کی جاتی ہیں۔میں نہیں مان سکتا کہ مسٹر بائڈ نے یہ بات اپنے پاس سے بنالی ہو۔ہم کو ان سے کبھی شکوہ پیدا نہیں ہوا۔پس انہوں نے جو کہا اپنے علم کے مطابق سچ کہا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ نیچے سے اُن کو جھوٹی اطلاعات دی گئی ہیں ورنہ وہ کبھی تحریر میں ایسی باتیں نہ لاتے جسے قادیان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ غلط ہے۔زبانی طور پر احمدی رپورٹر کو وہاں سے نکالنے کے علاوہ احمد یوں کو تحریری نوٹس بھی دیا گیا تھا کہ ان کے رپورٹر اس مسجد میں گئے تو ان پر ۱۰۷ کا مقدمہ چلایا جائے گا۔یہ نوٹس مجسٹریٹ علاقہ کی طرف سے تھا اور ناظر امور عامہ اور لوکل انجمن کے پریذیڈنٹ میر قاسم علی صاحب کو دیا گیا تھا۔بہر حال ایک ایسی مسجد جہاں احمدیوں کو جا کر نوٹ لینے کی بھی اجازت نہیں اُس میں کھڑے ہو کر کوئی اعلان کرنے کے معنی سوائے اِس کے کیا ہو سکتے ہیں کہ وہاں فخریہ طور پر کہہ دیا جائے کہ آؤ اور مقابلہ کر لو۔اور غرض صرف یہ ہو کہ وہاں نہ کوئی آنے جانے والا ہوگا اور نہ اس چیلنج کا جواب دے گا۔علاوہ ازیں اس موقع پر دوسرے احرار لیڈر بھی نہ ہوں گے جن کا مباہلہ میں شامل ہونا ضروری ہے۔میری طرف سے چیلنج بالکل واضح ہے اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں جسے کوئی معقول آدمی رڈ کر سکے۔