خطبات محمود (جلد 16) — Page 556
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء ان کا مرکز لاہور ہے اور میں نے تسلیم کر لیا ہے کہ ہم وہاں آ جائیں گے۔گورداسپور پر انہیں بہت فخر ہے اور میں نے کہہ دیا ہے کہ ہم وہاں آجائیں گے۔پھر ہم نے ان پر دوسرے مسلمانوں میں سے کوئی خاص شخصیت پیش کرنے کی قید نہیں لگائی۔جماعت احمدیہ کا امام مباہلہ میں شامل ہوگا ، اس کے بھائی ہوں گے،صدر انجمن کے ناظر ہوں گے اور تمام بڑے بڑے ارکان ہوں گے۔ان کے علاوہ پانچ سو یا ہزار دوسرے معزز افرادِ جماعت بھی ہوں گے۔احرار کے متعلق میں نے صرف یہ کہا ہے کہ احرار کے پانچ لیڈر یعنی مولوی مظہر علی صاحب اظہر ، چوہدری افضل حق صاحب ، مولوی عطا اللہ صاحب، مولوی داؤ دغزنوی صاحب اور مولوی حبیب الرحمن صاحب ہوں ، گویا ہم ان سے جو مطالبہ کرتے ہیں اس سے زیادہ پابندی اپنے پر لگاتے ہیں۔ان میں خلیفہ کوئی نہیں اور نہ ہی کوئی خلافت باقی ہے لیکن جماعت احمدیہ کی طرف سے خلیفہ ہو گا اور ذمہ دار ارکان ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے مرد ممبر ہوں گے اور اس کے مقابلہ میں ان کے صرف پانچ لیڈر میں نے ضروری رکھے ہیں۔باقی جن کو بھی وہ اپنا نمائندہ بنا کر لائیں گے ہم ان کو مان لیں گے۔اس مباہلہ میں تقریروں کا بھی اتنا سوال نہیں کیونکہ یہ کوئی مسئلہ نہیں بلکہ واقعات ہیں اور صرف پندرہ منٹ اپنے عقیدہ کے بیان کے لئے کافی ہیں۔پندرہ منٹ میں ہم اپنا عقیدہ بیان کر دیں گے اور اتنے ہی عرصہ میں وہ کہہ سکتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں غلط ہے حقیقتاً یہ ایسا نہیں مانتے۔اس میں دلائل وغیرہ کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔لمبی تفصیلات کی ضرورت مسائل میں ہوتی ہے لیکن یہ مباہلہ واقعہ کے متعلق ہے۔وہ کہتے ہیں احمدی رسول کریم ﷺ کی بہتک کرتے ہیں اور مکہ مکرمہ کی عزت نہیں کرتے۔اور ہم کہتے ہیں یہ غلط ہے۔باقی رہے مباہلہ میں شامل ہونے والے آدمی سو ہم نے کسی چھوٹی موٹی جماعت کو چیلنج نہیں دیا بلکہ آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کی واحد نمائندہ جماعت کو دیا ہے اور اتنی با اثر جماعت پانچ سو یا ہزار آدمی ایک محلہ سے جمع کر سکتی ہے۔ہاں اپنی جماعت کے دوستوں کی سہولت کے لئے میں یہ کہتا ہوں کہ مباہلہ کے دن کے فیصلہ کا اعلان پندرہ روز پہلے ضرور ہو جانا چاہئے کیونکہ ہماری جماعت کے دوست دُور دُور سے اس میں شامل ہونے کی خواہش کریں گے اس لئے جس وقت اُن کا آدمی ہمارے آدمی سے گفتگو کرے اور ضروری امور کا تصفیہ ہو جائے ، اس کے پندرہ روز بعد مباہلہ ہو۔انکی مزید سہولت کے لئے میں اپنے نمائندے بھی مقرر کر دیتا ہوں اور لاہور کی جماعت کے امیر شیخ بشیر احمد