خطبات محمود (جلد 16) — Page 534
خطبات محمود ۵۳۴ سال ۱۹۳۵ء ہوئی چیزیں بھی استعمال کرو اور جنہیں آگ نے نہ چھڑا ہو وہ بھی استعمال کر لو۔غرض ہماری غذا میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی احتیاطیں جمع کر دی ہیں لیکن پہلی قوموں کے لئے ممکن ہے اس قسم کی احتیاطیں نا قابل برداشت پابندیاں ہوں اور ان کے اخلاق کی اصلاح کے لئے اس قسم کے روزے تجویز کئے گئے ہوں۔مثلاً وہ تو میں جو جنگی ہوتی ہیں اور جن کا شکار پر گزارہ ہوتا ہے ، وہ ایک عرصہ تک گوشت کھانے کی وجہ سے ایسے اخلاق سے عاری ہو جاتی ہیں جو سبزی کھانے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دے دیا گیا ہو کہ وہ ہفتہ میں ایک دن گوشت کھانا چھوڑ دیں تو یقیناً یہ روزہ ان کے لئے بہت مفید تھا پس پہلی قوموں میں روزے تو تھے مگر شکل وہ نہ تھی جو اسلام میں ہے۔یا مثلا زکوۃ ہے ہر مذہب میں کسی نہ کسی رنگ میں صدقہ کا حکم پایا جاتا ہے مگر یہ نہیں کہ تمام مذاہب میں زکوۃ ان اصول پر مبنی ہو جن اصول پر اسلام کی زکوۃ مبنی ہے۔ہندوؤں میں اور قسم کی زکو تھی ، یہودیوں میں اور قسم کی زکو تھی ، عیسائیوں میں اور قسم کی زکوۃ تھی اور اسلام میں اور قسم کی زکوۃ ہے۔یا وراثت ہے وراثت کا اصل بھی تمام مذاہب کا ایک لازمی جزو ہے کیونکہ اکثر ماں باپ کی جائداد ہوتی ہے اور بہر حال وہ جائداد ان کی اولاد میں تقسیم ہوتی ہے اس لئے ہر مذہب میں وراثت کا مسئلہ پایا جاتا ہے۔مگر ہر جگہ اس کی تفصیلات میں اختلاف ہے۔کہیں وراثت میں آزادی زیادہ ہے اور کہیں قید زیادہ کہیں لڑکیوں کو حصہ نہیں دیا جا تا اور کہیں لڑکوں کے حقوق کو پامال کیا جاتا ہے، پھر کہیں وصیت کی عام اجازت ہے اور کہیں نہیں۔تو یہ جو ہزار ہا بلکہ سوا لاکھ کے قریب انبیاء گزرے ہیں ان سب کی تعلیمات کی جزئیات آپس میں مختلف تھیں مگر اس اختلاف کے باوجود ایک اتحاد بھی تھا۔اس اتحاد میں وہ منبع نظر آ جاتا ہے جس سے ان سب پر کلام نازل ہوا۔سارے انبیاء کی تعلیم میں حتی کہ بگڑی ہوئی تعلیموں میں بھی غور کرنے سے یہ نظر آتا ہے کہ جیسے پردے کے پیچھے چلمن سے کوئی عورت جھانک رہی ہو اسی طرح آسمانی وحی ان کی تعلیموں سے جھانکتی ہوئی نظر آتی ہے اور وہ جھانک جھانک کر اس ایک مقصد کا پتہ دے رہی ہے جس کے لئے تمام انبیاء مبعوث ہوتے رہے۔وہ مقصد جیسا کہ ہر شخص کو معلوم ہے تو حید ہے کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس نے دوسرے نبی سے توحید کے متعلق اختلاف کیا ہو۔تو حید کے مدارج میں اختلاف ہو سکتا ہے کیونکہ جب تک لوگ تو حید کی باریکیوں کے سمجھنے کے ناقابل تھے اس کی باریکیاں ان کے سامنے بیان نہ کی گئیں لیکن باوجود اس کے