خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 516

خطبات محمود ۵۱۶ سال ۱۹۳۵ء قانون شکنی نہیں کہلائے گی بلکہ قانون کے معنوں کی تعیین کے لئے جد و جہد کہلائے گی جسے انگریزی میں ٹیسٹ کیس کہتے ہیں۔اسی صورت میں ایک آزاد حج کے ذریعہ سے مُخْتَلَفَ فِيهَا مسئلہ کا فیصلہ چاہا جائے گا اور یقیناً موجودہ حالات کی صورت سے ہائی کورٹ یا پریوی کونسل کے سامنے لائے جائیں تو ججوں کو اقرار کرنا پڑیگا کہ احمدیوں سے بے انصافی ہو رہی ہے۔ایک فریق سے ڈھیل برتی جاتی ہے اور دوسرے کی کتابوں کو ضبط کیا جاتا ہے۔میرے نزدیک ، اور جو قانون دان لوگ ہیں ان کے نزدیک بھی یہ کوشش ہرگز قانون شکنی نہیں کہلاتی بلکہ قانون کے نفاذ کے لئے جد و جہد کہلاتی ہے۔یہ صاف بات ہے کہ اگر تم اپنے دشمنوں کو انہی کے پیمانہ میں ناپ کر دو گے اور حکومت تم کو پکڑ یگی تو خود بخود مقدمات عدالتوں میں جائیں گے اور آخر ہائی کورٹ کے جوں کے سامنے سب حقائق آجائیں گے اور بار بار ہائی کورٹ کے پاس جانے کے بعد آخر حقیقت جوں پر اس طرح کھل جائیگی کہ وہ اس طرف حکومت کو توجہ دلانے پر مجبور ہو جائیں گے کہ یہ تم کیا کر رہے ہو کہ ایک ہی قسم کا فعل احرار کرتے ہیں تو چُپ ہو رہتے ہو اور احمدی کرتے ہیں تو انہیں پکڑتے ہو۔غرض اس طرح ہائی کورٹ کے جوں کے فیصلے تم اپنے حق میں حاصل کر سکتے ہو ہاں بلا وجہ قوموں کا دل نہ دُکھاؤ۔صرف ان کے متعلق اس قسم کے حوالہ جات پیش کرو جو تم پر حملہ کریں۔یہودیوں نے حملہ نہیں کیا تو یہودیوں کی کتابوں کے حوالے پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، اگر عیسائیوں نے حملہ نہیں کیا تو ان کی کتابوں کے عیوب مت نکالو جنہوں نے تم پر حملہ کیا ہے ان کے عیوب نکالو۔اور اگر گورنمنٹ اسکی وجہ سے تمہیں جھکڑیاں بھی لگا لیتی ہے تو اسکی پرواہ نہ کرو کیونکہ ہائیکورٹ میں جا کر تم ہی بری ثابت ہو گے اور حکومت مجرم ثابت ہوگی جس نے امتیاز سے کام لیا۔اور چاہئے کہ تم حکومت سے مطالبہ کرتے رہو کہ یا تو وہ ان کی کتابوں کو بھی ضبط کرے یا گورنمنٹ دونوں کو کھلا چھوڑ دے کہ وہ جو جی چاہے لکھیں۔اسی طرح اور کئی ذرائع ہیں جن سے تم قانون کے اندر رہتے ہوئے اپنے حق کو حاصل کر سکتے ہو۔دیکھو! حکومت انگریزی کی بنیا در رکھنے والوں نے کتنی دانائی سے کام لیا کہ محکمہ قضاء کو آزاد رکھا۔اسلام نے بھی قضاء کو دیگر محکموں سے الگ رکھا ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ ان کا ایک مقدمہ ایک اسلامی مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو ا تو مجسٹریٹ نے حضرت علیؓ کا کچھ لحاظ کیا۔آپ نے فرمایا یہ پہلی بے انصافی ہے جو تم نے کی۔میں اور یہ اس وقت برابر ہیں۔تو عدالتوں کو جو آزا در کھا گیا ہے وہ اسی