خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 489

خطبات محمود ۴۸۹ سال ۱۹۳۵ء میرے قلب پر یہ فقرہ نازل ہوا۔تم گناہ سے افسردگی اور افسوس تو پیدا کر سکتے ہو مگر ہمدردی نہیں، دنیا میں ہمیشہ دوہی قسم کے ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں، گناہ کے یا نیکی کے۔نیکی کا ذریعہ بسا اوقات زیادہ قربانی چاہتا ہے اور گناہ کا کم لیکن اصل فتح وہی ہوتی ہے جو نیکی کے ذریعہ سے ہو۔رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں کئی جنگیں ہوئیں جن میں کفار مارے بھی گئے لیکن اگر اس طرح جنگیں صلى الله کرنے کی بجائے صحابہ یہ کرتے کہ ابو جہل ، عتبہ، شیبہ وغیرہ مخالفین کے ہاں جا کر نوکر ہو جاتے اور موقع پا کر قتل کر دیتے تو ایسا کر سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔اگر وہ ایسا کرتے تو یہ طریق ان کی نیک نامی کا موجب نہ ہوسکتا۔بسا اوقات مشابہ واقعات بھی مخالف کے لئے اعتراض کا موقع پیدا کر دیتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کی زندگی میں دو واقعات ہی ایسے ہوئے ہیں اور وہ اگر چہ بالکل جائز اور درست تھے۔اور ایسے علاقوں میں اور ایسے حالات میں رونما ہوئے کہ انہیں نا جائز نہیں کہا جا سکتا مگر آج تک دشمن ان کی بناء پر اعتراض کرتے آتے ہیں بدر اور احد وغیرہ جنگوں میں بھی دشمن مارے گئے اور اس کے مقابل پر باطنی فرقہ والوں نے بھی بڑے بڑے مسلمانوں کو ماراحتی کہ مشرق قریب میں تمام بڑے بڑے مسلمانوں کو انہوں نے مار دیا مگر آج باطنیوں کا نام ذلت سے لیا جاتا ہے لیکن صحابہ نے بھی دشمنوں کو مارا مگر ان کا یہ فعل ذلیل نہیں سمجھا جاتا۔سلطان صلاح الدین ایوبی جب عیسائیوں سے لڑ رہا تھا تو باطنی اس کو مارنے کی تجویزوں میں تھے اور تین بار اس پر حملہ ہو مگر وہ بیچ جاتا رہا۔ایک دفعہ ایک باطنی اس کے پاس آ کر نو کر ہوا اور اس نے اس قدر اعتماد حاصل کر لیا کہ خاص سلطان کے خیمہ کا پہرہ دار مقرر ہو گیا۔ایک روز جب سلطان نماز پڑھ رہا تھا وہ اس کی طرف بڑھا مگر مصلے سے ٹھوکر کھا کر گرا۔سلطان نے اس کی نیت بھانپ کر سجدہ میں ہی اس کی گردن پکڑ لی اور جب دیکھا تو اس کے پاس خنجر تھا۔اس میں تو شک نہیں کہ وہ دلیر لوگ تھے، قربانی کی روح بھی رکھتے تھے۔ایک دفعہ ایک عیسائی بادشاہ فلپ نامی باطنی سردار سے ملنے گیا تا سلطان صلاح الدین کے خلاف اس سے امداد حاصل کرے۔جس مکان میں وہ بیٹھے تھے وہ ایک بلند عمارت تھی جس کی کھڑکیوں کے ارد گرد پہریدار کھڑے تھے۔سردار نے عیسائی بادشاہ سے کہا کہ تم میری طاقت کو سمجھ