خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 480 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 480

خطبات محمود ۴۸۰ سال ۱۹۳۵ء تبلیغ کا کام اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ ۲۴ گھنٹوں میں بھی وہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔بہت سی ڈاک پڑی رہتی ہے پس ہمت سے کام لو اور اپنی عقل اور فہم مشکلات کے حل کے لئے دوڑ اؤ۔پہلا قدم ہماری جدوجہد کا یہ ہے کہ ہم حکومت پنجاب کے پاس جائیں اور اس سے دادرسی کی درخواست کریں۔اسکی طرف سے ایک جواب تو ہمیں مل گیا ہے اور گو اس پر ابھی پورا غور ہم نے نہیں کیا مگر ایک حد تک اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت پنجاب ہماری باتوں پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں اور گوجیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ابھی پورا غور اس چٹھی پر نہیں کیا گیا لیکن قریباً قریباً وہ حکومت پنجاب کا آخری فیصلہ ہے اور اگر الفاظ پر مزید غور کرنے کے بعد بھی ہمیں یہی معلوم ہوا کہ وہ حکومت پنجاب کا آخری جواب ہے تو پھر ہم حکومت ہند کے پاس جائیں گے اور اگر وہاں بھی دادری نہ ہوئی تو گورنمنٹ انگلستان کے پاس جائیں گے، اس کے بعد انگلستان کے لوگوں سے اپیل کریں گے اور پھر ساری دنیا کے سامنے ہماری اپیل ہوگی۔یہ رستہ ہے جو میں نے تجویز کیا ہے اور یہ کوئی معمولی نہیں بلکہ نہایت ہی اہم رستہ ہے اگر دانائی اور ہوشیاری سے کام کرو تو اسی ایک رستہ سے تم کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتے ہو۔اور پھر اور ہزاروں رستے ہیں جن پر چلا جا سکتا ہے اور بغیر قانون شکنی کئے بغیر فتنہ و فساد پھیلائے، بغیر لڑائی جھگڑا کئے اور بغیر کسی قسم کا اپنے اوپر الزام لینے کے تم اپنی داد رسی کروا سکتے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتے ہو۔مگر یاد رکھو خدا تعالیٰ اسی کی راہنمائی کرتا ہے جو اس کے قانون کا ادب کرتا ہے۔آخر خدا تعالیٰ مجھے اسی لئے یہ باتیں سمجھا تا ہے کہ میں سمجھتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے وہ درست ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے قانون شکنی نہ کرو اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ حکم درست ہے۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے شریعت کے کسی حکم کو نہ تو ڑو اور مجھے یقین ہے کہ اسی میں برکت ہے۔پس اس وجہ سے مجھے وہ نور ملتا ہے جو میری راہمنائی کرتا اور نئی سے نئی باتیں سمجھاتا ہے۔مگر تم خدا تعالیٰ کے احکام پر شبہ کرتے اور بعض دفعہ یہ خیال کرتے ہو کہ اس موقع پر قانون شکنی ہی مناسب ہے اور اس طرح اس نور سے محروم رہتے ہو۔اس کے علاوہ بھی میں حقوق کے حاصل کرنے کے لئے بیسیوں نہیں سینکڑوں رستے بتا سکتا ہوں مگر میں بتاتا نہیں کیونکہ جو لوگ پکی پکائی کھانے کے عادی ہو جائیں وہ سکتے اور ست ہو جاتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ تم بجائے کچی پکائی کھانے کے خود پکانے کی عادت ڈالو اور بجائے اس کے کہ میں تمہیں تمہاری کامیابی کے طریق بتاؤں