خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 470

خطبات محمود ۴۷۰ سال ۱۹۳۵ء تعلقات ہیں ، یا جاپانی یا چینی حکومت انگریزوں سے دوستی رکھتی ہے، ان اخباری اعلانات سے دھوکا مت کھاؤ۔ہم اپنی رپورٹوں سے جانتے ہیں کہ بیشتر حصہ تعلیم یافتہ طبقہ کا ایسا ہے جو خواہ ایران کا ہو، خواہ عرب کا ہو، خواہ جاپان کا ہو، خواہ ترکستان کا انگریزی حکومت کا خطرناک دشمن ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ انگریزی حکومت نے ہی اس کی آزادی کے راستہ میں روک ڈالی ہوئی ہے۔جاپان کا تعلیم یافتہ طبقہ سمجھتا ہے کہ اگر انگریز نہ ہوتے تو سارے ایشیا پر ہم حاکم ہوتے ، چین کے لوگ سمجھتے ہیں کہ کئی حکومتیں جو جاپان کے مقابلہ میں ہماری مدد کے لئے تیار ہو سکتی تھیں محض انگریزوں کی وجہ سے مدد کرنے سے رُکی ہوئی ہیں، افغانستان کے اندرونی حالات اور انگریزوں کے متعلق ان کی رائے کا پتہ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کے واقعہ سے لگ سکتا ہے ، یہی حال ایران اور عرب کا ہے۔ایسی حالت میں جب لوگوں پر یہ اثر تھا کہ احمدی انگریزی قوم کے ایجنٹ ہیں تو تعلیم یافتہ طبقہ کی اکثریت ہماری باتیں سننے کے لئے تیار نہیں تھی۔وہ سمجھتے تھے کہ گو یہ مذہب کے نام سے تبلیغ کرتے ہیں مگر دراصل انگریزوں کے ایجنٹ ہیں۔یہ اثر اتنا وسیع تھا کہ جرمنی میں جب ہماری مسجد بنی تو وہاں کی وزارت کا ایک افسر اعلیٰ بھی ہماری مسجد میں آیا یا اس نے آنے کی اطلاع دی ، اُس وقت مصریوں اور ہندوستانیوں نے مل کر جرمنی حکومت سے شکایت کی کہ احمدی ، حکومت انگریزی کے ایجنٹ ہیں اور یہ یہاں اس لئے آئے ہیں کہ انگریزوں کی بنیاد مضبوط کریں۔ایسے لوگوں کی ایک تقریب میں ایک وزیر کا شامل ہو نا تعجب انگیز ہے۔اس شکایت کا اتنا اثر پڑا کہ جرمنی حکومت نے اُس وزیر سے جواب طلبی کی کہ احمدی جماعت کے کام میں تم نے کیوں حصہ لیا۔پھر یہ خیال کہ جماعت احمد یہ انگریزوں کی ایجنٹ ہے لوگوں کے دلوں میں اسقدر راسخ تھا کہ بعض بڑے بڑے سیاسی لیڈروں نے مجھ سے سوال کیا کہ ہم علیحدگی میں آپ سے پوچھتے ہیں کیا یہ صحیح ہے کہ آپ کا انگریزی حکومت سے اس قسم کا تعلق ہے۔ڈاکٹر سید محمود جو اس وقت کانگرس کے سیکرٹری ہیں ، ایک دفعہ قادیان آئے اور انہوں نے بتایا کہ پنڈت جواہر لعل صاحب نہر وجب یورپ کے سفر سے واپس آئے تو انہوں نے سٹیشن پر اُتر کر جو باتیں سب سے پہلے کیں ان میں سے یہ ایک تھی کہ میں نے اس سفر یورپ سے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ اگر انگریزی حکومت کو ہم کمزور کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے احمد یہ جماعت کو کمزور کیا جائے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر شخص کا یہ خیال تھا کہ احمدی جماعت انگریزوں کی نمائندہ اور