خطبات محمود (جلد 16) — Page 451
سال ۱۹۳۵ء خطبات محمود ۴۵۱ سے کون سی چیز روک رہی ہے صرف یہی کہ میجارٹی (Majority) ہمارے خلاف ہے اس لئے ایسے حالات میں جو ہمارے ساتھ انصاف کرے اسے بھی ہم احسان ہی سمجھتے ہیں۔کسی نے کسی کا قرض دینا ہو ، وہ روز اس سے مانگے مگر وہ نہ دے لیکن ایک دن ایسی حالت ہو جائے کہ اس کے بیوی بچے فاقہ سے سخت تکلیف میں ہوں اور اُس وقت اس کا قرضدار روپیہ کی ادائیگی کا انتظام کر دے تو کیا وہ اسے احسان نہیں سمجھے گا ؟ پس مخالف حالات میں انصاف بھی احسان ہو جاتا ہے۔غور کرو جس قوم میں وہ شخص پیدا ہوا ہو جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تعریف کی اور اسے اپنے زمانے کا پیلا طوس قرار دیا۔یعنی جس قوم کا ایک فرد کیپٹن ڈگلس ہو جو اب تک زندہ موجود ہے۔ہم اسے کس طرح بُرا کہہ سکتے ہیں۔کیپٹن موصوف کا اپنا بیان ہے کہ اُس وقت کے پنجاب کے لفظنٹ گورنر نے انہیں بلا کر کہا کہ ی شخص عیسائیت کا سخت مخالف ہے اس لئے اس کے مقدمہ کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے جس کے صاف معنی یہ تھے کہ اسے ضرور سزا دو۔مگر میں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ یہ بد دیانتی مجھ سے نہیں ہوسکتی۔باوجود اس کے کہ ایک انگریز کہلانے والے ( کہلانے والا میں اس لئے کہتا ہوں کہ وہ دراصل ہندوستانی تھا مگر ایک انگریز نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا ) کی طرف سے مقدمہ تھا ، صوبہ کے سب سے بڑے افسر کا رُجحان تھا کہ سزا دی جائے اور کیپٹن موصوف خود اتنے متعقب تھے کہ جب وہ اس ضلع میں آئے تو کہا کہ یہ شخص عیسائیت کا اتنا مخالف ہے ، اسے اس وقت تک سزا کیوں نہیں دی گئی لیکن جب مقدمہ پیش ہوا تو انہوں نے شکل دیکھتے ہی کہہ دیا کہ یہ شخص ملزم نہیں ہوسکتا۔ان کے ایک ماتحت افسر جو اب تک زندہ ہیں ان کا بیان ہے کہ بٹالہ میں پیشی کے بعد جب کیپٹن موصوف سے آئے تو نہایت بے چینی سے ٹہل رہے تھے بالکل پاگلوں کی سی حالت تھی اور رنگ فق تھا۔میں نے کہا کہ صاحب ! آپ کی طبیعت خراب معلوم ہوتی ہے ویٹنگ روم میں تشریف رکھئے۔مگر انہوں نے کہا کہ نہیں میں بیمار نہیں ہوں مجھے ٹہلنے دو۔لیکن پھر میں نے یہی حالت دیکھی تو پھر جا کر کہا۔اس پر وہ اندر تو آ گئے مگر کہنے لگے سپر نٹنڈنٹ صاحب ! میرے دل پر ایسا بوجھ ہے کہ ڈر ہے کہ کہیں پاگل نہ ہو جاؤں۔گواہیوں سے مرزا صاحب کا جُرم بالکل ثابت ہے مگر میں جس طرف جاتا ہوں ان کی شکل میرے سامنے آتی ہے اور کہتی ہے کہ میں مجرم نہیں ہوں میں مجرم نہیں ہوں اور یہ ایسی حالت ہے کہ میں شاید پاگل ہو جاؤں گا۔میں نے کہا کہ آپ S۔P کو بلا لیں اور ان سے مشورہ کریں۔چنانچہ انہیں شتین پر