خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 434

خطبات محمود ۴۳۴ سال ۱۹۳۵ء وہ مار مارتے ہیں جسے پنجابی میں کبھی مار کہتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قاتل کے لواحقین پھر بھی خوش ہوتے ہیں کہ گو انہوں نے بدلہ میں ہمارا آدمی مارد یا مگر اسے وہ ایذاء تو نہیں دے سکے جو ہم نے ان کے آدمی کو دی تھی۔اگر انگریزی قانون کی بجائے شریعت کا قانون نافذ ہوتا تو شریعت کہتی جیسی ایذاء مقتول کو دی گئی ہے ویسی ہی ایذاء پہلے قاتل کو دی جائے اور پھر اسے قتل کیا جائے۔چوتھے انفرادی جرم اور قومی مُجرم میں اسلام نے فرق رکھا ہے۔انفرادی جُرم کی اور سزا ہوگی اور قومی جرم کی اور۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ یعنی فتنہ و فساد بعض دفعہ قتل سے بھی زیادہ سنگین مجرم ہوتا ہے۔پانچویں۔سزا شریعت نے حکومت کے اختیار میں رکھی ہے یہ اجازت نہیں دی کہ جس نے کوئی مجرم کیا ہوا سے انسان خود بخو د سزا دے دے۔چھٹے۔شریعت خود حفاظتی کی اجازت دیتی ہے یہ نہیں کہتی کہ اگر کوئی حملہ کرے تو اُس وقت اپنے آپ کو اس کے حملہ سے نہ بچایا جائے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کا ایک اپنا واقعہ احادیث میں بیان ہوا ہے۔ایک دفعہ آپ گھر میں تشریف رکھتے تھے ، آپ کی ایک بیوی نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! ابھی ایک شخص کو میں نے دیکھا وہ سوراخ میں سے ہمارے گھر میں جھانک رہا تھا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے پہلے کیوں نہ بتایا میں نیزے سے اس کی آنکھ پھوڑ دیتا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خود حفاظتی جائز ہے مگر یہ خود حفاظتی اس وقت جائز ہوتی ہے جب کوئی شخص حملہ کر رہا ہو۔اگر چلا گیا ہو تو پھر اس کے پیچھے بھاگ کر اس پر حملہ کرنا جائز نہیں کیونکہ اگر بعد میں بھی حملہ جائز ہوتا تو رسول کریم یہ نہ فرماتے کہ مجھے پہلے کیوں نہیں بتا یا ور نہ میں اس کی آنکھ پھوڑ دیتا۔آپ بعد میں بھی اس کی آنکھ پھوڑ سکتے تھے مگر آپ نے ایسا نہ کیا۔ساتویں کسی جرم کی انگیخت کرنے والوں کو شریعت اصل مجرم قرار دیتی ہے۔اگر انگیخت کے ماتحت کوئی اور حملہ کرتا ہے تو گو وہ بھی مجرم ہوتا ہے مگر اصل مجرم وہ ہوتا ہے جس نے انگیخت کی۔ان اصول کو ہمیشہ یاد رکھو اور سمجھ لو کہ سزا دینا حکومت کا کام ہے نہ تمہارا۔اور سزا نوعیت کے مطابق ہونی چاہیئے لیکن اگر حکومت غفلت سے کام لیتی اور مجرم کو سزا نہیں دیتی بلکہ اسے چھوڑ دیتی ہے تو شریعت نے اس کا بھی علاج بتایا ہے مگر اس سے پہلے ضروری ہوگا کہ گورنمنٹ کی غفلت ثابت کی جائے۔اگر