خطبات محمود (جلد 16) — Page 432
خطبات محمود ۴۳۲ سال ۱۹۳۵ء کریں گے لیکن گورنمنٹ اب یہ ہم سے امید نہیں کر سکتی کہ ہم اس کے ساتھ ویسا تعاون کریں جیسا کہ پہلے کیا کرتے تھے جب تک کہ چن چن کر ان سرکاری افسروں کو عبرتناک سزا نہ دی جائے جن کا اس فتنہ کے پھیلانے میں دخل ہے خواہ وہ چھوٹے افسر ہوں یا بڑے اور جب تک کہ سلسلہ کی ہتک کا ازالہ نہ کیا جائے ،مگر با وجود اس کے سلسلہ کی نیک نامی کی خاطر ہم تیار ہیں کہ لوگوں کو اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی نصیحت کریں، گو ممکن ہے ہماری ہر قسم کی کوششوں کے باوجود بھی کوئی شخص اپنے جوش کو ظا ہر کر بیٹھے۔پنجاب کے ایک نہایت ہی ذمہ وار شخص کے سامنے ایک اور ذمہ وار شخص نے کہا میرے پاس اس شخص کی تحریر بھی موجود ہے اور اگر موقع ہوا تو میں اسے ظاہر کر دوں گا کہ ہم کو احمد یوں پر یقین ہے کہ وہ فساد نہیں کریں گے یعنی چونکہ ہم مانتے ہیں کہ وہ فساد نہیں کریں گے اس لئے ہمیں زیادہ فکر نہیں۔گویا احمدی جماعت کو اس کی شرافت کی وجہ سے قربان کیا جاتا ہے حالانکہ اس حقیقت کو تسلیم کر لینے کے بعد اگر احمدیوں کی اس قربانی کی قدر نہ کی جائے تو اخلاقی طور پر گورنمنٹ پر اتنی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کے پاس موجودہ صورت حالات کے متعلق کوئی جواب ہی باقی نہیں رہتا۔میں اس موقع پر آپ لوگوں کو اسلامی سزا کے چند طریق بھی بتا دیتا ہوں کیونکہ بہر حال کوئی بھی موقع ہو ہم اسلام سے باہر نہیں جا سکتے۔اسلام ہی ہمارا اوڑھنا ہے اور اسلام ہی ہمارا بچھونا ہے اور۔اسلام ہی ہماری غذا اور ہماری راحت و آرام کا ذریعہ ہے۔جیسے مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ہم اسلام کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سزا کے متعلق فرماتا ہے کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا اصول سزا کا یہ ہے کہ جیسا جرم ہو اس کے مطابق سزا ہو۔دوسرے قرآن اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سزا کی برابری سے مراد اس کی ظاہری شکل نہیں ہوتی۔یہ نہیں کہ کوئی عورت گزر رہی ہو اور کوئی بدمعاش اسے چھیڑے یا اس کا برقعہ اُتار لے تو سزا دیتے وقت اُس کی بیوی یا بہن کو بلایا جائے اور اس کا برقعہ اُتارا جائے بلکہ برابری سے مراد باطنی برابری ہے گو بعض جگہ ظاہری شکل بھی لی جاتی ہے۔خصوصاً جسمانی حملہ کی صورت میں لیکن عام طور پر باطنی شکل لی جاتی ہے جیسے زنا ہے اس کی سزا شریعت نے بعض حالتوں میں کوڑے اور بعض حالتوں میں سنگساری رکھی ہے۔گوسنگساری کی سزا میں اختلاف ہے مگر میں اس وقت مسئلہ بیان نہیں کر رہا بلکہ ایک مثال دے رہا ہوں۔اب زنا کا کوڑوں یا سنگساری سے کیا تعلق ہے۔صاف پتہ لگتا ہے کہ سزا کی برابری سے مراد ظاہری شکل کی