خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 414

خطبات محمود ۴۱۴ سال ۱۹۳۵ء ہیں۔کچھ عرصہ ہوا ٹائمز آف انڈیا جو انگریزی کا ایک وقیع اخبار ہے اس کا نمائندہ یہاں آیا میں نے اُسے بتایا کہ دو آدمی میرے قتل کے لئے یہاں آچکے ہیں جن پر یہ الزام ثابت ہے اور کئی ایسے ہیں جن پر یہ شبہ کیا گیا ہم نے حکومت کو ہر امر کی اطلاع دی ہے مگر اسکی طرف سے کوئی توجہ نہیں کی گئی لیکن زمیندار میں ایک جھوٹی خبر شائع ہونے پر استقدر دوڑ دھوپ کی گئی۔اس نمائندہ کو اس انٹرویو کے بارہ میں اخبار کی طرف سے یہ ہدایت تھی کہ حکومت کا نقطہ ء نگاہ بھی معلوم کرے۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں جو نوٹ اس نے شائع کیا اس میں لکھا تھا کہ میں نے دوسری طرف سے بھی دریافت کیا ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ امام جماعت احمدیہ کی حفاظت کا انتظام اندر اور باہر ہر طرح کیا گیا ہے۔جب میں نے یہ پڑھا تو حیران ہو گیا کیونکہ حکومت کی طرف سے اس قسم کا ہرگز کوئی انتظام نہ تھا۔اول تو جو حالت جوش کی ان دنوں ہمارے خلاف ہے اسکو دیکھتے ہوئے احراریوں کی پولیس پر بھی ہم اعتبار نہیں کر سکتے تھے۔لیکن یہ امر حقیقت کے بھی بالکل خلاف تھا نہ اندر نہ باہر میری حفاظت کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی انتظام نہ تھا اور یہ بیان سراسر خلاف واقعہ تھا۔جب ہم نے اس کے خلاف بعض جگہ ذکر کیا تو ایک ذمہ دار پولیس افسر کی چٹھی امور عامہ کو آئی ، آپ بتائیں آپ لوگ امام جماعت احمدیہ کی حفاظت کے لئے اور مزید انتظام کیا چاہتے ہیں ؟ امور عامہ نے جب سوال کیا کہ پہلے ہمیں مزید کے معنی سمجھاؤ کہ پہلے کیا انتظام ہے جس کی وجہ سے یہ مزید کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔تو اس سوال کا جواب حکومت نے آج تک نہیں دیا۔غرض گو اس وقت حکومت کو ہمارے متعلق اس قدر بدظن کر دیا گیا ہے کہ ہماری کسی بات پر توجہ مشکل ہی معلوم ہوتی ہے مگر پھر بھی ہمارا فرض ہے کہ اسے توجہ دلائیں۔جب اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کو حکومت دی ہے تو شریعت کی حد بندیوں کے ساتھ ہمیں اس طرف متوجہ ہونا پڑے گا سوائے اس کے کہ حجت تمام کر دیں اور نا امید ہو کر اس سے صاف کہہ دیں کہ ہم تمہارا حکم تو بے شک مانیں گے مگر ہمیں آپ سے مدد کی کوئی امید نہیں اور اس وجہ سے آئندہ ہم تمہارا اور اپنا وقت ضائع نہیں کریں گے۔دوسری بات یہ ہے کہ اس سازش کے متعلق میں نے بیان کیا ہے کہ اس میں احراری لیڈر شامل ہیں اگر یہ انفرادی فعل ہوتا یا مقامی احمد یوں تک محدود ہوتا تو بھی اسے نظر انداز کیا جا سکتا تھا لیکن ہمارے پاس اس شبہ کی قومی وجوہ موجود ہیں کہ اس میں بعض بڑے لیڈر بھی شریک ہیں۔اس حملہ سے چار پانچ روز قبل ہمیں ایک رپورٹ ملی کہ ایک بڑے احراری لیڈر