خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 406

خطبات محمود ۴۰۶ سال ۱۹۳۵ء کافی سزا سمجھ لیتا ہے لیکن یہ حالت مؤمن کی دینی اور اجتماعی امور کے متعلق ہوتی ہے۔انفرادی اعمال میں وہ ایسا نہیں کرتا بلکہ وہ ایسے موقع پر ذاتی جذبات کو نظام پر قربان کر دیتا ہے اور عفو اس کے اعمال پر غالب رہتا ہے۔اس تمہید کے بعد اب یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ حملہ جو میاں شریف احمد صاحب پر کیا گیا ہے ہمیں عقل و جذبات کا توازن قائم رکھتے ہوئے اس کے متعلق یہ سوچنا چاہئے کہ یہ انفرد ای فعل تھا یا سازش کا نتیجہ تھا۔انفرادی افعال مؤمن کو بھلا دینے چاہئیں۔کئی لوگ معمولی جوش کی حالت میں کوئی فعل کر بیٹھتے ہیں اور اپنے حق سے زیادہ بدلہ لے لیتے ہیں۔کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ایک آدمی جوش میں آیا مگر دوسرے نے اسے کوئی اہمیت نہ دی اور چپ رہا تو وہ غصہ میں بھرا ہوا آ کر کسی اور سے لڑنے لگ گیا۔مجھے ایک بڑے فلاسفر کی بات یاد ہے جس نے لکھا ہے کہ بہت سی پھانسیاں جن کا حکم عدالتوں سے دیا جاتا ہے مگر وہ فیصلہ عدالت کا نہیں ہوتا بلکہ عدالت کرنے والوں کی بیویوں کا ہوتا ہے۔مجسٹریٹ بیوی سے لڑ کر آتا ہے اور مقدمہ سنتے ہی ذرا سا بھی ثبوت اگر نظر آیا تو جھٹ سزا دے دیتا ہے اس لئے کہنا چاہئے کہ وہ فیصلہ اس کا نہیں بلکہ اس کی بیوی کا ہوتا ہے۔پس دیکھنا چاہئے کہ یہ فعل کیسا تھا ؟ اسے انفرادی فعل سمجھا جائے یا سازش کا نتیجہ۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس فعل کی نوعیت بتاتی ہے کہ یہ فعل انفرادی نہیں تھا ، نہ کوئی جھگڑا ہوا نہ فساد اور نہ حملہ آور سے کوئی لین دین کا معاملہ تھا راستہ چلتے چلتے اس شخص نے حملہ کر دیا۔اب سوال یہ ہے اگر یہ فعل انفرادی نہ تھا تو پھر کیا یہ فعل صرف انگیخت کا نتیجہ تھا یا سازش کا۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ انسان کسی کو کہتا تو کچھ نہیں مگر ایسی جوش کی باتیں کرتا ہے کہ دوسرے کو خواہ مخواہ غصہ آ جاتا ہے اور وہ کوئی ناروا حرکت کر بیٹھتا ہے یہ تو ہے انکیت۔اور سازش یہ ہے کہ کسی خاص آدمی کو خاص کام کے لئے متعین کر دیا جاتا ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ اس فعل میں انگلیت ضرور تھی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ ایام میں قادیان میں ایسی تقریر میں کی گئیں جن میں بار بار سلسلہ کے ارکان اور مقدس مقامات پر حملہ کی تحریکیں کی گئی تھیں۔ہمیں اس کی رپورٹیں برابر پہنچتی رہی ہیں اور اگر میں غلطی نہیں کرتا تو حکومت کے پاس بھی ضرور پہنچی ہوں گی کیونکہ اس کے ایجنٹ بھی یہاں موجود ہیں۔ان تقریروں میں صاف لفظوں میں ہمارے خاندان کا نام لے لے کر اور مقدس مقامات کا نام لے لے کر جوش دلایا گیا۔پس اگر اس کے لئے کوئی باقاعدہ سازش نہ کی جاتی تو ان تقریروں کے نتیجہ میں بھی بہت حد تک اس قسم کے حملہ کا امکان تھا لیکن میں بتا تا ہوں کہ