خطبات محمود (جلد 16) — Page 407
خطبات محمود ۴۰۷ سال ۱۹۳۵ء معاملہ اس سے بھی بڑھ کر ہے اور یقیناً سازش کا نتیجہ ہے۔آج سے دوماہ پہلے سے مجھے اطلاعات مل رہی تھیں کہ احمدی زعماء پر عموماً اور میرزا شریف احمد صاحب پر خصوصاً حملہ کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ان رپورٹوں میں اس گلی کا ذکر بھی تھا جہاں حملہ ہوا ، پھر اس رپورٹ میں تجاویز تک بتا دی گئی تھیں اور لکھا تھا کہ ایک تجویز تو یہ ہے کہ ایک آدمی لٹھ لے کر حملہ کر دے اور ایک یہ تجویز بھی تھی کہ عورتیں رستہ میں کھڑی ہو کر گالیاں دیں اور پھر چمٹ جائیں اور گھسیٹ کر اندر لے جائیں اور کہیں کہ ہم پر حملہ کیا تھا۔پہلے جب یہ رپورٹ پہنچی تو ہم نے اسے افواہ سمجھا لیکن جب مختلف ذرائع سے یہ خبر پہنچی تو اخبار الفضل میں ایک نوٹ دے دیا گیا اور ۲۷ / جون کو سرکاری افسروں کو بھی اس کی اطلاع دے دی گئی۔چیف سیکرٹری ، انسپکٹر جنرل پولیس اور مقامی حکام کو بھی اطلاع کر دی گئی اور یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ سازش تھی۔ہماری اطلاعات میں گلی کا بھی ذکر تھا بلکہ کئی آدمیوں کا جو اس سازش میں حصہ لے رہے ہیں۔ساتھ ہی حملہ کے ذرائع کا بھی ذکر تھا اور غرض یہ بھی بتائی گئی تھی کہ احمدی جوش میں آ کر حملہ کریں گے اس پر انہیں نیز ان کے ہمدرد حکام کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ احمدیوں نے حملہ کیا۔کہا جاتا ہے کہ اسکی ایک غرض یہ بھی تھی کہ اس طرح فساد کرا کے سیشن جج گورداسپور کے فیصلہ کے خلاف ہم جو اپیل کرنا چاہتے ہیں اس کے خلاف مواد مہیا کیا جائے اور چونکہ ہماری پہلی تاریخ میں اس قسم کی کوئی بات ملتی نہیں اور اس کی تائید میں کوئی دلیل نہیں اس لئے نئی دلیل پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔اس وقت میں نہیں کہہ سکتا کہ اس میں حکام کا بھی کوئی دخل تھا یا نہیں اور نہ اس کے متعلق کوئی رپورٹ مجھے پہنچی ہے ہاں احرار کے متعلق پہنچتی رہی ہیں۔پس اس حملہ کا اندازہ اس امر سے نہیں ہونا چاہئے کہ کرنے والا کون تھا اور جس پر کیا گیا وہ کون ؟ بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ کس ارادہ کے ماتحت یہ کیا گیا۔یہ حملہ ایک معزز احمدی پر ایک ذلیل آدمی کی طرف سے ہونے کی وجہ سے ہی اس کی اہمیت نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ اس کا مقصد کیا تھا ؟ اس کا مقصد یقیناً یہی تھا کہ قادیان میں فساد کرایا جائے لڑایا جائے اور جماعت احمدیہ کو بدنام کیا جائے۔وہ لاٹھی جو چلائی گئی وہ اس غرض سے تھی کہ سینکڑوں ہزاروں جسموں پر لاٹھیاں پڑیں پس ان لاٹھیوں کی اہمیت اسی حملہ پر ختم نہیں ہو جاتی۔اگر اتفاقا اس حملہ کے وقت اور احمدی ساتھ چل رہے ہوتے یا اگر خود مرزا شریف احمد ہی جوش میں آ جاتے تو وہاں دوسرے احراری بھی بیٹھے تھے فوراً یہ ایک قومی لڑائی بن جاتی اور پھر حکومت کے پاس رپورٹ چلی جاتی کہ اس