خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 405

خطبات محمود ۴۰۵ سال ۱۹۳۵ء رقم معتین نہ کی تھی بلکہ کہا تھا کہ جرمنی کی طاقت کو دیکھ کر مقرر کی جائے گی۔) تو اس جرمن تاجر نے لکھا کہ ہم تو کام کرنے کے لئے تیار ہیں ، ہم میں سے ہر شخص نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ جس طرح بھی ہو وہ محنت کر کے یہ رو پیدا دا کر دے گا۔تا ہمارا ملک آزاد ہو مگر مشکل یہ ہے کہ ہمیں بتایا نہیں جاتا کہ ہم نے کیا ادا کرنا ہے اور ہمیں ڈر ہے کہ اگر بغیر رقم کی تعیین کے ہم لوگ تاوان ادا کر نے لگیں تو اسے ہمیشہ بڑھایا جاتا رہے گا لیکن اگر بتا دیا جائے تو ہمیں ادا ئیگی میں کوئی عذر نہ ہوگا۔ان کی یہ قوت ارادی ہی تھی جس کا یہ نتیجہ ہے کہ آج وہی جرمنی جسے کچلا گیا تھا اور جسے کہا گیا تھا کہ تم یہ نہیں کر سکتے وہ نہیں کر سکتے۔وہ کہتا ہے میں سب کچھ کروں گا کون ہے جو مجھے روک سکے۔اور وہ لوگ جنہوں نے اس پر پابندیاں عائد کی تھیں وہ ایک دوسرے کے منہ کی طرف دیکھتے ہیں اور ایک کہتا ہے میں کچھ نہیں کر سکتا اور دوسرا بھی کہتا ہے میں کچھ نہیں کر سکتا اور جرمن چیلنج دے کر اور دند نا کر جو چاہے کرتا ہے اور اتحادی اسے روک نہیں سکتے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اس نے اپنے جذبات کو روک کر رکھا ، اس نے ایک عہد کیا جسے بھولا نہیں ، اس نے نہ اپنی طاقتوں کو ضائع کیا اور نہ بے غیرتی دکھائی۔طاقت کا ضائع کرنا قوت عملیہ کو مٹا دیتا ہے اور بے غیرت کہتا ہے بہت اچھا جو کرنا ہے کر لو لیکن سمجھدار آدمی کا یہ کام ہے کہ وہ صاف کہ دیتا ہے کہ جو ظلم کیا جا رہا ہے میں اسے پسند نہیں کرتا اور اس پر راضی نہیں ہوں مگر میں کچھ کر کے دکھاؤں گا زیادہ باتیں پسند نہیں کرتا۔میرا مطلب یہ نہیں کہ پروٹسٹ نہیں کرنا چاہئے یا اپنے جذبات کا اظہار نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ ہے کہ جذبات کا اظہار اس قدرنہیں ہونا چاہئے کہ اسی میں دل تسلی پالے۔کئی بچوں کو دیکھا ہے کہ شام کو اپنے ہم جولیوں سے خوب لڑیں گے ، خوب گالیاں دیں گے، پھر روتے روتے سو جائیں گے اور صبح اٹھ کر بغیر کسی بات کے ایک دوسرے سے کھیلنے لگ جائیں گے کیونکہ وہ اپنا بخار گالیوں سے نکال چکے ہوتے ہیں۔پس میرا مطلب یہ ہے کہ جذبات کے اظہار پر ہی بس نہ کر دو بلکہ دنیا کو بتا دو کہ اس سال نہیں تو اگلے سال ، دس ہیں ، پچاس ،سو، بلکہ ہزار دو ہزار سال میں بھی ہم بدلہ لے کر چھوڑیں گے مگر وہ بدلہ شریفانہ ہوتا ہے جیسا بدلہ کہ انبیاء کی جماعتیں ہمیشہ لیتی آئی ہیں اور دشمن کو بتادیں گے کہ ہمارا جوش محدود وقت کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہے مؤمن ہمیشہ دشمن کی شرارت کو یاد رکھتا ہے اور کوئی چیز اس کے ذہن سے دشمن کی شرارت کو نہیں مٹا سکتی مگر دشمن کی اصلاح یا اس کا معافی مانگنا۔جب دشمن اصلاح کرلے یا معافی طلب کر لے تو مؤمن اسی کو