خطبات محمود (جلد 16) — Page 386
خطبات محمود ۳۸۶ سال ۱۹۳۵ء ہو اور اس کی ترقیات کو روکنے والا ہو۔تو ایسے موقع پر جبکہ جہاد بالسیف کا وقت نہیں ہوتا ایک ہی ذریعہ انسان کے ایمان کی آزمائش کا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کے حضور جھکے اور اس دشمن دین کو مد نظر رکھتے ہوئے دعا کرے کہ اے خدا ! یہ تیرے دین کے راستہ میں روک بنا ہوا ہے اس کی وجہ سے تیرا قائم کردہ سلسلہ دنیا میں پھیلنے سے رُک رہا ہے۔اے خدا ! اسے ہدایت دے لیکن اگر تیری مشیت نے اسے ہدایت سے محروم کر دیا ہے تو پھر تو اسے تباہ و برباد کر کے اپنے دین کی اشاعت کا راستہ کھول دے۔بے شک کمزور طبائع ایسے موقع پر کمزوری دکھائینگی اور وہ کہیں گی کہ ہم اپنے منہ سے اپنے باپ یا اپنی ماں یا اپنے بھائی یا اپنی بہن یا اپنے کسی اور عزیز اور رشتہ دار کے لئے کس طرح بد دعا کریں مگر وہ جو حضرت نوح علیہ السلام کی صفت اپنے اندر رکھتے ہیں ، وہ جنہوں نے انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات کا دودھ پیا ہوا ہوتا ہے ، وہ جب دیکھتے ہیں کہ اصلاح کی تمام کوششیں رائگاں چلی گئیں جب دیکھتے ہیں کہ خیر خواہی کی ہر بات کو ٹھکرا دیا گیا، جب دیکھتے ہیں کہ ظلم اپنی انتہاء کو پہنچ گیا اور دشمن کے وجود کے ذریعہ اس کے دین کو نقصان پہنچ رہا ہے تو وہ اس وقت بد دعا کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رشتہ داروں یا دوستوں کے نقصان کی کوئی پرواہ نہیں۔رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا۔اے خدا! آج ہم تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ تو اس زمین پر کوئی کافر نہ چھوڑ سب کو اپنے قہر سے ہلاک کر دے۔یہ دعا ہے جو اسلام کے راستہ سے ہر قسم کی روکوں کو دُور کرنے والی ہے۔آخر دنیا کی آبادیاں کس لئے ہیں اور کیوں خدا تعالیٰ نے یہ تمام نظام قائم کیا ہے؟ انسان کی پیدائش کی غرض اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ وہ دین کی ترقی کا موجب ہو اور خدا تعالیٰ کے نور کو ظاہر کرنے والا ہو لیکن جب تمام کوششوں کے باوجود بعض لوگ ایسے ہوں جن کی موجودگی اسلام کو نقصان پہنچا رہی ہو تو کوئی وجہ نہیں سوائے اس کے کہ اپنے نفس کی کسی کمزوری کا خوف ہو۔یا سوائے اس کے کہ ابھی ہدایت کی امید ہو، یہ دعا نہ کی جائے کہ یا تو خدا اسے ہدایت دے یا اسے تباہ کر کے ہمارے راستہ سے ہٹا دے۔لیکن بہر حال پہلی چیز ہدایت کی دعا ہے اور پہلے انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ دشمن کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرے اور اس کے بعد جب شرارت حد سے بڑھ جائے تو پھر بد دعا۔لیکن بد دعا کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کرے کہ اے خدا! اگر ممکن ہو سکے تو اسے ہدایت دے اور اگر یہ