خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 387

خطبات محمود ۳۸۷ سال ۱۹۳۵ء تیری غیر مبدل تقدیر کے خلاف ہو تو پھر تیری مرضی پوری ہو اور تو اسے مزید شرارت کا موقع نہ دے اور اسے تباہ کر۔جیسا کہ حضرت مسیح ناصری نے دعا کی اور کہا۔”اے میرے باپ اگر ہو سکے تو یہ پیالا مجھ سے مل جائے۔تاہم جیسا میں چاہتا ہوں ویسا نہیں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہی ہو ہم اسی طرح جب انسان پر کوئی ایسا موقع آئے جبکہ اس کے عزیز ، اس کے رشتہ دار، اس کے دوست ، اس کے اقارب ، اس کے ہم قوم ، اس کے ہم مذہب، اس کے ہم ملک اور بڑے بڑے مکھیا اور قوم کے رئیس اور حکمران کہلانے والے دین کے راستہ میں روک بن کر کھڑے ہو جائیں تو اُس وقت وہ دعا کرے کہ الہی ! ان لوگوں کو سمجھ اور عقل دے لیکن اگر تیرے علم میں ان کے لئے ہدایت مقدرنہیں تو پھر انہیں تباہ کر کے ہماری کامیابی کے راستہ کو صاف کر دے۔ہمارے دل کو بیشک اس کے ذریعہ سے دُکھ پہنچے لیکن اے خدا! ہم تیرے سلسلہ کے راستہ میں کسی روک کو برداشت نہیں کر سکتے۔یہ وہ ذریعہ ہے جس کے ماتحت انسان کے ایمان کی آزمائش ہو جاتی ہے۔آخر حضرت نوح علیہ السلام نے جب کہا تھا کہ رَبِّ لَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارٌ اتو بالکل ممکن ہے ان کفار میں کوئی ان کا ماموں ہو ، کوئی خالو، کوئی بھائی ہو، کوئی چچا، پھر بیویوں کی طرف سے رشتہ دار ہوں ، دوست ہوں ، عزیز واقارب اور احباب ہوں لیکن باوجود اس کے کہ وہ ملک ان کا ملک تھا ، وہ قوم ان کی قوم تھی پھر بھی حضرت نوح علیہ السلام نے ان کی پرواہ نہ کی۔اور بددعا سے پہلے خدا تعالیٰ سے یہ عرض کر دیا کہ اے خدا! مجھ سے جس طرح بھی ممکن ہو سکتا تھا میں نے ان کو سمجھایا۔میں نے انہیں پوشیدہ بھی سمجھایا اور ظاہر بھی ، دن کو بھی سمجھایا اور رات کو بھی ، ہر رنگ اور ہر طریق سے میں نے کوشش کی کہ انہیں تیرے دین میں داخل کروں لیکن اے خدا! جب ان کا انکار اپنی حدوں سے بڑھ گیا اور اب تیرے دین کے راستہ میں یہ روک بن کر کھڑے ہو گئے تو اب یہی صورت باقی ہے کہ تو انہیں غارت کر اور اپنی قہری تجلیات سے برباد کر دے۔پس بد دعا کرتے وقت دو باتوں کا مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ایک تو یہ کہ ہدایت کو مقدم رکھے یعنی پہلی دعا یہ ہونی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں عقل و سمجھ سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرے یہ کہ بددعا کبھی نفسانیت کے ماتحت نہ ہو۔یہ نہ ہو کہ کسی سے ذاتی جھگڑ اہوا اور