خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 34

خطبات محمود ۳۴ سال ۱۹۳۵ء ساری روٹی دے دو اور خود ایک ٹکڑا بھی نہ کھاؤ۔پس سر دست تو بچے ہوئے ٹکڑوں کا تم سے مطالبہ کیا گیا ہے اگر تم اس مطالبہ کو پورا نہیں کرتے تو کس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ تم اگلی قربانیوں کے لئے تیار ہو۔پس میں جماعت کے دوستوں سے پھر وہی مطالبہ کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میں سے ہر فرد اس غرض کے لئے اپنے آپ کو پیش کرے گا یہاں تک کہ لوگ تمہیں مجنون کہنے لگ جائیں۔مجنون کی طاقت جس قدر بڑھ جاتی ہے وہ کسی پرچھنی نہیں۔یہاں ہی ایک استانی ہوا کرتی تھیں، انہیں کبھی کبھی جنون کا دورہ ہو جاتا، ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسی الاول درس دے رہے تھے کہ اسے دورہ ہو گیا اور کو ٹھے پر سے اس نے چھلانگ لگانی چاہی۔عورتوں نے شور مچایا تو حضرت خلیفہ اول نے بھی اٹھ کر اسے پکڑ لیا۔یہ اس زمانہ کی بات ہے جب حضرت خلیفہ اول ابھی بیمار نہ ہوئے تھے۔آپ کا جسم خوب چوڑا چکلا اور مضبوط تھا۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ آپ نے بانہہ نکال کر کہا تھا کہ کوئی جوان ہو تو بانہ پکڑ کر دیکھ لے۔مگر باوجود ایسی مضبوطی کے اور باوجود اس کے کہ پانچ سات اور عورتوں نے بھی اسے پکڑا ہوا تھا پھر بھی وہ عورت ہاتھ سے نکلی جاتی تھی۔تو جس وقت انسان دماغی حدوں کو توڑ دیتا ہے اُس وقت اُسے ایک غیر معمولی طاقت ملتی ہے چاہے جسمانی حدوں کے توڑنے کی وجہ سے حاصل ہو اور چاہے روحانی قیود کو توڑ دینے کی وجہ سے حاصل ہو۔جس طرح انسان کے دماغ کی جب گل بگڑ جاتی ہے تو اس کی طاقتیں وسیع ہو جاتی ہیں اسی طرح خدا کی طرف سے جب آواز بلند ہو اور انسان دیوانہ وار کہے کہ آتا ہوں ، آتا ہوں تو پھر کوئی طاقت اور قوت اسے روک نہیں سکتی۔یہی روحانی دیوانے ہوتے ہیں جو دنیا میں کوئی کام کیا کرتے ہیں، یہی روحانی دیوانے ہوتے ہیں جو دنیا میں ایک انقلاب پیدا کر دیا کرتے ہیں ، ایسا انقلاب جو اس کے تمدن میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے ، اس کی سیاست میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے ، اس کی تعلیمی حالت میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے اور اس کے اخلاق میں تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔ورنہ وہ چند نقال جو یورپین مدرسوں میں پڑھنے کے بعد مغربی اصطلاحیں رٹنے لگ جاتے ہیں یا چند زمیندار جو صبح سے شام تک ہل چلا کر گھروں میں آ بیٹھتے ہیں انہوں نے دنیا میں کون سی تبدیلی کر دی یا کون سی وہ تبدیلی کر سکتے ہیں اگر چہ ہم اپنی ساری کمائی سامنے لا کر رکھ دیں۔دنیا میں تبدیلی کرنے کے لئے پہلے اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، پہلے