خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 373

خطبات محمود ۳۷۳ سال ۱۹۳۵ء مقابل پر نہیں سمجھی جاتی بلکہ اسی کی تابع ہوتی ہے اور اگر کوئی ایسا افسر ہے جو خدا کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے کا یہ مطلب سمجھتا ہے کہ انگریزوں کی بادشاہت مٹادی جائے تو وہ بالکل ناسمجھ ہے اور سوائے اس کے کہ وہ معذور ہے ہم اس کے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتے۔ایسا افسر ضر ور غلطی کرتا اور ناسمجھی میں مبتلاء ہے اور اس نے مذہبی نقطہ نگاہ کو سمجھا ہی نہیں۔اصل بادشاہت خدا ہی کی ہے اور اگر وہ نہ ہو تو دنیوی بادشاہتیں قائم ہی نہیں رہ سکتیں۔کیا کوئی شخص یہ خیال کر سکتا ہے کہ دنیا میں سارے لوگ اس لئے چوریاں نہیں کرتے کہ ان پر حکومت قائم ہے اور وہ قانون کی سزا سے ڈرتے ہیں۔مثلاً ہندوستان کی ۳۳ کروڑ آبادی میں سے دس ہمیں لاکھ چوری کرنے والے ہوں گے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ باقی سب کے سب قانون سے ڈر کر چوری نہیں کرتے کیا سب لوگ اس لئے ڈاکے نہیں ڈالتے کہ انگریزی قانون انہیں پکڑ لے گا۔اس قدر کثیر آبادی میں سے زیادہ سے زیادہ دو چار یا حد دس ہزار قاتل ہوں گے باقی جو قاتل نہیں تو کیا اس وجہ سے نہیں ہیں کہ انگریزوں کا قانون ہے کہ قاتل کو قتل کیا جائے ؟ بلکہ لوگ ان جرائم اور بد اخلاقیوں سے اس لئے بچتے ہیں کہ ان کے خدا نے ان کو منع کیا ہے اور اس طرح دنیوی حکومتیں چل ہی اس وجہ سے رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کی دنیا میں حکومت ہے۔مسلمان ، ہندو، عیسائی، سکھ، یہودی ، پاری سب مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بُرائیوں سے اس لئے بچتے ہیں کہ ان کے مذاہب نے ان باتوں سے منع کیا ہے ورنہ جو قتل کرتا اور ڈاکہ مارتا ہے وہ قانون کب دیکھتا ہے؟ پس دنیا کی بادشاہتیں اللہ تعالیٰ کی بادشاہت کی موجودگی کی وجہ سے چل رہی ہیں ورنہ اگر سب لوگ چوریاں کرنے لگ جائیں ، ڈاکے ڈالیں ، دغا فریب شروع کر دیں تو دنیوی حکومتیں باقی کس طرح رہ سکتی ہیں۔دنیا میں ہر حکومت اعتماد پر چل رہی ہے۔کمانڈر انچیف اعتماد کرتا ہے کہ اس کے ماتحت کمانڈ ر وفادار ہیں ، پارلیمنٹ اعتماد کرتی ہے کہ وائسرائے وفادار ہے اور وائسرائے اعتماد کرتا ہے کہ گورنر وفادار ہیں یہ اعتماد کس وجہ سے ہے یہ مذہب کے احساس کا ہی نتیجہ ہے۔اگر مذہب کو مٹا دو تو یہ احساس کہاں رہ سکتا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو حکومت چل ہی نہیں سکتی۔پس حکام اگر غور کریں تو انہیں معلوم ہو کہ وہ دنیا میں حکومت کر ہی اس لئے رہے ہیں کہ خدا کی حکومت ان کے اوپر ہے اور اس کے بغیر ایک گھنٹہ کیا ایک منٹ بھی وہ حکومت نہیں کر سکتے دیکھو! کتنی قیمتی جانیں کتنے چھوٹے نوکروں