خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 344

خطبات محمود ۳۴۴ سال ۱۹۳۵ء کسی اور کے ہاتھوں سے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں پر ہمیں اتنا یقین ہے کہ جتنا اپنی جان پر بھی نہیں۔جو بات ہم اپنی طرف منسوب کریں اس میں انکسار اور عاجزی ہونی چاہئے کیونکہ ہم کیا چیز ہیں نہ ہمارے پاس دولت ہے ، نہ مال ہے اور نہ جائیداد میں ہیں، نہ علم ہے ، نہ جھتے ہیں ، نہ ہمارے پاس فوج ہے، نہ ہمارے پاس حکومت ہے، نہ ترقی کے دُنیوی سامان ہیں اس لئے ہم کیا کر سکتے ہیں لیکن احمدیت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق چونکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں ان کو ہم بار بارڈ ہراتے جائیں گے بلکہ اگر ان کے اعلان میں ہماری طرف سے کمی آئے تو یہ بے ایمانی کی علامت ہوگی۔پس اپنے اندر نیکی اور تقویٰ پیدا کر و، صداقت اور راستی پیدا کر وایسا نہیں ہونا چاہئے کہ کسی سے لڑائی ہوئی تو جس طرح دریا میں پڑا ہوا پتھر پانی سے گھس گھس کر کچھ اور شکل اختیار کر لیتا ہے اسی طرح اصل واقعہ اور بیان کی شکل وصورت ہی بدل دی جائے۔اول تو غلطی نہ کرو اور ہر قدم پر احتیاط کرولیکن اگر غلطی کر بیٹھتے ہو تو اس کی سزا بھگتنے کے لئے تیارر ہو کہ وہ تمہارے ایمان کی مضبوطی کا باعث ہوگی ، وہ تمہاری ترقی کا موجب ہوگی کیونکہ تم آئندہ محتاط رہو گے لیکن اگر کوئی جھوٹ بول کر بیچ جائے تو اس کا ایمان ضائع ہو جائے گا اور آئندہ جرم کی جرات اُسے ہو گی کیونکہ وہ یہی سمجھے گا کہ میں جھوٹ بول کر بیچ سکتا ہوں۔پس اگر اللہ تعالیٰ کا فضل چاہتے ہوتو تقویٰ اور خصوصا صداقت اور راستی پیدا کر و۔تمہاری زبان اتنی کچی ہونی چاہئے کہ دشمن بھی تمہاری بات سننے کے بعد یہ کہے کہ اب اس کے متعلق مزید تحقیقات کی ضرورت نہیں۔جماعت کے امراء ، سیکرٹری اور محلوں کے عہدے دار ہمیشہ سچ بول کر دکھا ئیں اور دوسروں سے امید رکھیں کہ سچ بولیں۔نمازوں کی پابندی کے متعلق میں نے نصیحت کی تھی اس وجہ سے پچھلے دنوں مساجد میں حاضری بہت ہو جایا کرتی تھی مگر اب پھر کم ہو رہی ہے میں نے بتایا تھا کہ محلوں کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹریوں کا فرض ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً حاضری لیا کریں اور مجھے بھی ان لوگوں کے متعلق اطلاع دیا کریں جو نمازوں میں نہ آتے ہوں۔مگر افسوس کہ عہدہ اور خطاب لینے کے لئے تو ہر شخص تیار ہو جاتا ہے لیکن کام کرنے والے کم ہوتے ہیں۔اگر میں مجلس میں ان سے سوال کروں کہ کس کس نے اپنا فرض ادا کیا ہے تو شاید ہی کوئی ہو جو گردن اونچی کر سکے ورنہ سب کی گردنیں نیچی ہو جائیں۔اس بات کا ثبوت کہ ان کے ذمہ جو فرض لگایا گیا تھا اسے انہوں نے ادا نہیں کیا یہ ہے کہ میں