خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 320 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 320

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء چاہتے ہیں ان سب کو جمع کر لیں اور متحدہ طور پر ہمارا مقابلہ کر میں ہم خدا کے فضل سے ان سے ڈرتے نہیں بلکہ خوش ہیں کہ اس طرح خدا کی مخفی طاقتیں ظاہر ہوں گی اور لوگوں کو پتہ لگے گا کہ ہمارا سلسلہ انسانوں کا قائم کردہ نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ جس وقت یہ فتنہ دُور ہو گا ، ہمارے مخالف اور اندرونی منافق و بازدہ چوہوں کی طرح مر جائیں گے اور دشمن کے ہاتھوں کو توڑ کر خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو نئی طاقت نئی عظمت اور نئی شہرت عطا کرے گا اور وہ شرفاء ہندوؤں ،سکھوں اور عیسائیوں میں سے جو نا واجب طور پر ہم پر حملہ آور نہیں ہوئے ، اللہ تعالیٰ ان کی اس نیکی کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ اس کا انعام یا تو ہدایت کی صورت میں انہیں دے دے گا اور یا دنیاوی ترقیات کے ذریعہ ان کی اس نیکی کا انہیں پھل دے گا۔میں جماعت کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ ان باتوں کی پرواہ نہ کریں۔ایمان ایک پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط چیز ہے۔یہ ممکن ہے کہ پیہم بارشیں ایک پہاڑ میں شگاف پیدا کر دیں مگر مؤمن کے ایمان کو کوئی چیز کمزور نہیں کر سکتی۔ہماری حالت اس وقت وہی ہونی چاہئے جو رسول کریم ﷺ کی اس وقت تھی جب ایک دشمن تلوار لے کر آپ کے پر کھڑا ہو گیا۔اُس وقت جنگ سے رسول کریم ﷺ اور صحابہ واپس آ رہے تھے کہ آرام کرنے کے لئے ایک جگہ بیٹھے اور دوپہر کے وقت اِدھر اُدھر پھیل گئے۔رسول کریم ﷺ ایک درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے اور آپ کی تلوار لٹک رہی تھی کہ ایک شخص آیا اور اُس نے رسول کریم علی کی ہی تلوار کھینچ کر آپ کو جگایا اور پوچھا بتا تجھے اب میرے ہاتھ سے کون بچائے گا ؟ رسول کریم نے فرمایا اللہ۔آپ کا یہ کہنا تھا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر گئی۔سے ہماری جماعت کو بھی اسی مقام پر کھڑا ہونا چاہئے جب دشمن مقابلہ پر آئے تو مت سمجھو کہ تم اپنی تدابیر سے کامیاب ہو جاؤ گے۔تم اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھو اور جب کوئی کہے کہ اب تمہیں کون بچا سکتا ہے تو تمہارے دل سے یہ آواز نکلنی چاہئے کہ اللہ اور اس مخالفت کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔یہ سب مخالف ایک دن اسی طرح مٹ جائیں گے جس طرح سمندر کی جھاگ کنارے پر آ کر مٹ جاتی ہے۔یہ مخالف بھی ہمارے ساحل مراد پر پہنچنے کے وقت جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔ان کی طاقتیں مٹ جائیں گی اور ان کی قو تیں زائل ہو جائیں گی۔ہاں جو لوگ ان میں سے شریف ہیں وہ اپنی شرافت کا پھل پائیں گے اور جوطبیعت تو شریفانہ رکھتے ہیں مگر مخالفین کے پروپیگنڈا کی وجہ سے ان کے دھوکا اور فریب میں "