خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 314

خطبات محمود ۳۱۴ سال ۱۹۳۵ء سے بغض وعناد ہے مگر جب اس نے دیکھا کہ یہ مسئلہ خاص طور پر اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی ایک خاصی تعداد کی اس طرف توجہ ہے تو اس نے خیال کیا ایسا نہ ہو جماعت احمدیہ کے گھلنے کا سہرا احراریوں کے سر رہے پس اس نے بھی اعلان کر دیا کہ مسلمانانِ عالم کے سامنے اس وقت سب سے بڑا فتنہ جماعت احمدیہ کا ہے اور مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس کا استیصال کریں۔جب اس زور وشور سے اغیار نے جماعت احمدیہ کا مقابلہ ہوتے دیکھا تو ان میں سے آریہ سماج کے اخبار بھلا کہاں خاموش رہ سکتے تھے وہ بھی اُٹھے اور ہماری جماعت کی مخالفت میں لگ گئے۔قادیان کے آریہ اور سکھ بھی ان میں شامل ہو گئے۔اور انہوں نے کہا ہم بھی اپنا سارا زور ان احراریوں کے ساتھ مل کر جماعت احمدیہ کو مٹانے کے لئے لگا دیں۔ہندوستان کے سیاسی لیڈر ابھی تک خاموش تھے بلکہ کہنا چاہئے کہ ان کا معتد بہ حصہ یہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں فتنہ و فساد اور آپس کے تفرقہ سے بچنا چاہئے اسی طرح اعلی عہد یدار خاموش تھے یا کم از کم ظاہر میں خاموش تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ یہ طوفان مخالفت فرو ہونے میں نہیں آتا اور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے تو انہوں نے کہا ہم پیچھے کیوں رہیں۔اس خیال کا آنا تھا کہ سر مرزا ظفر علی صاحب نے ایک بیان شائع کر دیا ، پھر ڈاکٹر سرا قبال کو خیال آ گیا کہ میں کیوں پیچھے رہوں اور اب آخر میں علامہ عبد اللہ یوسف علی صاحب جو ہمیشہ ان باتوں سے الگ رہتے تھے بول پڑے اور سمجھا کہ اسلامیہ کالج کا پرنسپل ایسی باتوں میں کیوں دخل نہ دے اور کس لئے جماعت احمدیہ کے خلاف اپنی رائے کا اظہار نہ کرے۔پھر اس موقع سے عیسائیوں نے بھی فائدہ اُٹھایا۔اور وہ بھی ہمارے مخالفین کی صف میں شامل ہو گئے غرض ہر قوم نے آج چاہا کہ ہمیں کچل دے ایک طرف دنیا کی تمام طاقتیں جمع ہیں احراری بھی ہیں ، پیرزادے بھی ہیں ، جمعیۃ العلماء بھی ہے ، اہلحدیث بھی ہیں ، دیوبندی بھی ہیں ، قادیان کے منافق بھی ہیں اور قادیان کے بعض آریہ اور سکھ بھی ہیں۔پھر آریہ اخبارات بھی ہیں ، پادری بھی ان کے ہمنوا ہیں ، شاعر اور فلاسفر بھی ان کے ساتھ ہیں، سیاستدان بھی ان کے ساتھ ہیں ، عہدیدار بھی ان کے ساتھ ہیں اور حکومت بھی اپنا زور ان کی تائید میں خرچ کر رہی ہے گو یا د نیا اپنی تمام طاقتیں احمدیت کے کچلنے پر صرف کرنے کیلئے آمادہ ہو رہی ہے مگر ہم کیا ہیں ہم وہی ہیں جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا:۔دین حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین