خطبات محمود (جلد 16) — Page 292
خطبات محمود ۲۹۲ سال ۱۹۳۵ء دے لیکن ابھی ایک سال ہی گزرا ہے کہ الیکشن کے موقع پر سر مرز اظفر علی صاحب پنجاب کونسل کی ممبری کے لئے کھڑے ہوئے تو اس موقع پر مجھے انہوں نے دو چٹھیاں بھیجیں جن میں تسلیم کیا کہ میں آپ کی جماعت کا دشمن نہیں بلکہ جیسے مسلمانوں کے دوسرے فرقوں کو سمجھتا ہوں اسی طرح آپ کی جماعت کو بھی ایک مسلمان فرقہ سمجھتا ہوں۔ان کے وہ دونوں خط ہمارے پاس محفوظ ہیں اور اگر وہ انکار کریں تو انہیں شائع بھی کیا جا سکتا ہے۔غرض آج سے ایک سال پہلے وہ پنجاب کونسل کی ممبری کے حصول کے لئے جب کھڑے ہوئے تو اس وقت ہمیں مسلمانوں میں سے سمجھتے تھے اور یہاں تک لکھتے تھے کہ گو آپ کا مذہبی رنگ میں مجھ سے اختلاف ہے لیکن اس اختلاف کی بناء پر مجھ سے آپ کو مخالفت نہیں ہونی چاہئے۔پھر انہوں نے اپنی چٹھیوں میں ایک دوسرے مسلمان ممبر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ تو فاسق ، فاجر اور بدکار ہے اور میں تو نمازی ہوں آپ کا فرض ہے کہ میری تائید کریں۔اگر ہم کا فر ہیں تو اس سے زیادہ خلاف عقل بات ایک سر کہلانے والے کی اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ کہے چونکہ آپ کا فر ہیں اس لئے اگر آپ ایک نمازی کی تائید نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا۔ایک سر کا خطاب پانے والے اور ہائی کورٹ کا حج رہ چکنے والے کے متعلق یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ لکھے میں نمازی ہوں اور پھر وہ اس جماعت کو اپنی مدد کے لئے بلائے جو اس کے خیال میں کافر ہو۔پھر انہوں نے یہ بھی اپنے خط میں لکھا کہ میں عام مسلمانوں کی طرح آپ کی جماعت سے سلوک کرتا ہوں اور جیسے تمام مسلمانوں کو سمجھتا ہوں اسی طرح آپ کی جماعت کو سمجھتا ہوں اور فلاں مسلمان ممبر تو فاسق ، فاجر اور بدکار ہے۔میں اب بھی سرمرزا ظفر علی صاحب کا لحاظ کرتا ہوں اور اس مسلمان ممبر کا نام نہیں لیتا جس کا انہوں نے اپنے خط میں ذکر کیا تا ان پر ہتک عزت کا مقدمہ نہ چل جائے لیکن میں کہتا ہوں کہ کیا اخلاق اور دیانت اسی بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک سال پہلے تو وہ ہمیں مسلمان کہیں اور اب حکومت سے مطالبہ کریں کہ جماعت احمدیہ کو مسلمانوں میں سے الگ کر دیا جائے۔وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس وقت جماعت احمدیہ کے عقائد کا انہیں علم نہ تھا۔ان دنوں اخبار سیاست میں ہماری جماعت کے خلاف مضامین نکل رہے تھے اور ان میں یہ بیان کیا جاتا تھا کہ بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ن نَعُوذُ بِاللہ خدائی کا دعویٰ کیا ، آپ ختم نبوت کے منکر تھے ، آپ نے انبیاء کی توہین کی اور ان مضامین کو پڑھ کر سر مرزا ظفر علی صاحب نے سیاست کے مضامین کے متعلق ایک تعریفی مقالہ لکھا۔پس