خطبات محمود (جلد 16) — Page 224
خطبات محمود ۲۲۴ سال ۱۹۳۵ء اسی کام پر لگ جائے گا۔اس کے بعد دوسرا سوال ہمارے سامنے یہ آئے گا کہ ہمارے معدہ کے مناسب حال کون سی غذا ہے اور پھر اس وقت ہمارے لئے کون سی غذا مفید ہو سکتی ہے پھر ہم اس کی تحقیق میں لگ جائیں اور بہت سا وقت خرچ کریں۔اس کے بعد کھانا کھاتے وقت تمام ذرائع کو استعمال کریں جن کے ماتحت ہمیں معلوم ہو کہ معدہ میں کس قدر غذا گئی ہے اور کس قدر غذا کی ضرورت ہے۔غرض اس طرح اگر ہر امر کی تحقیق شروع کر دی جائے تو کھانا کھانے پر ہی ایک مہینہ لگ جائے اتنی دیر زندہ کون رہ سکتا ہے کہ وہ تحقیق کرتا رہے۔یا کوئی شخص ہم سے بات کرنے لگے تو ہم ی تحقیق کرنے لگ جائیں کہ اس کے گزشتہ حالات کیسے تھے آیا یہ نیک ہے یا مشتبہ آدمی ؟ پھر ہم اس کے وطن جائیں اور اس کے حالات کی سراغ رسانی کریں اور دریافت کرتے پھریں کہ یہ ہر دن اور ہر رات کہاں بسر کرتا ہے۔اس طرح ایک شخص کی زندگی کے حالات معلوم کرنے کے لئے ہمیں دو چار سال کی ضرورت ہو گی مگر ہم اس طرح نہیں کرتے بلکہ سیدھے دوسروں کے پاس چلے جاتے ہیں اور ان سے دریافت کرتے ہیں یہ کیسا آدمی ہے وہ کہہ دیں کہ اچھا آدمی ہے تو ہم اس پر اعتبار کر لیتے ہیں اور جب وہ ملنے کے لئے آتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ ہمیں آپ کی ملاقات سے بڑی خوشی ہوئی آپ نے بہت عنایت فرمائی جو ہمیں شرف ملاقات بخشا، چاہے پیچھے سے وہ چور یا ٹھگ ہی نکل آئے۔ہم اس کے ملنے والوں یا دوستوں کی بات مان لیتے ہیں اور اگر ہم ہر ملنے والے کے متعلق تحقیق کرنے لگیں تو ہماری عمر ختم ہو جائے مگر تحقیق مکمل نہ ہو۔یا مثلاً سانس آنے لگے تو ہم سانس روک کر کھڑے ہو جائیں اور کہیں کہ پہلے ہم خورد بین منگواتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ کمرے کی ہوا اس وقت کیسی ہے۔آیا اس میں کوئی مہلک جراثیم تو موجود نہیں تو ہمارا کیا حال ہو۔ہم کبھی غور نہیں کرتے کہ کمرے کی ہوا اچھی ہے یا بُری بلکہ سانس آپ ہی آپ آتا جاتا ہے گویا ایک عادت ہے جو خدا تعالیٰ نے ہم میں پیدا کر دی۔جو نہی کہ بچہ پیدا ہوتا ہے اور اس کی چھاتیوں پر دباؤ پڑتا ہے سانس جاری ہو جاتا ہے۔پھر ہماری مرضی ہو یا نہ ہو ، آپ ہی سانس آتا رہتا ہے۔گویا اس کی وہی مثال ہو جاتی ہے جو کہتے ہیں کہ ایک بنیا کسی زمیندار کو برات میں لے گیا اسے خیال آیا کہ اس کے سسرال کنجوس ہیں اور اسے کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھلا ئیں گے اس لئے ابھی سے کچھ نصیحت کرنی چاہئے تا کہ مشکلات پیش نہ آئیں۔یہ سوچ کر وہ زمیندار سے کہنے لگا حکماء کہتے ہیں کہ کھانا کھاتے وقت پیٹ کے تین حصے کرنے