خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 212

خطبات محمود ۲۱۲ سال ۱۹۳۵ء کو طلب کرے۔اس دن کے لئے میں نے خاص طور پر دود عا ئیں بتائی تھیں تا علاوہ اور دعاؤں کے دو دعا ئیں ایسی ہوں جن میں جماعت متحد ہو۔اگر ہر شخص اپنے اپنے طور پر دعا کرتا تو کوئی کچھ دعا کرتا اور کوئی کچھ لیکن جس طرح انفرادی عبادت اجتماعی عبادت کا مقابلہ نہیں کر سکتی اسی طرح انفرادی دعا بھی اجتماعی دعا کا مقابلہ نہیں کر سکتی جب سارے کے سارے مل کر ایک چیز اللہ تعالیٰ سے مانگیں تو یہ بہت مفید ہوتا ہے۔اس طرح کمزور کو طاقتور سے طاقت ملتی ہے اور طاقتور کو کمزور سے۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ کمزور سے طاقتور کو کس طرح طاقت مل سکتی ہے کیونکہ کمزور سے کمزور انسانوں کا مجموعہ بھی طاقتوروں کی امداد کا موجب ہو سکتا ہے بہت سے بچے اگر مل جائیں تو ایک طاقتور انسان ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس میں شبہ نہیں کہ بعض بندے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی دعائیں ہزاروں انسانوں کی دعاؤں سے زیادہ سنی جاتی ہیں لیکن اگر ایسے بندے کی دعاؤں کے ساتھ پچاس ہزار یا لاکھ ڈیڑھ لاکھ اور لوگوں کی دعائیں بھی مل جائیں تو وہ دعا اور زیادہ مؤثر اور طاقتور ہو جائے گی۔اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کی دعائیں ساری دنیا سے زیادہ سنی جاتی ہیں مگر یہ مقابلہ کفر و اسلام میں ہوتا ہے اسلام اسلام میں نہیں۔جن کی دعائیں ساری دنیا کے مقابلے میں سنی جاتی ہیں ان کی ایسی دعائیں کفر کے مقابلہ میں ہوتی ہیں۔رسول کریم ﷺ کی ایسی دعائیں عیسائیوں ، یہودیوں اور بت پرستوں کے مقابلے میں ہوتی تھیں۔صحابہ کی اور آپ کی دعائیں ایک ہی غرض کے لئے ہوتی تھیں اس لئے ان میں مقابلہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بہر حال صحابہ کی دعائیں آپ کی دعا کے ساتھ مل کر زیادہ مؤثر ہو جاتی تھیں اسی لئے صحابہ کو آپ دعا کی تحریک فرماتے رہتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بھی دوسروں کو دعا کے لئے کہا کرتے تھے بلکہ بعض اوقات بچوں کو بھی دعا کی تحریک کرتے تھے مجھ سے بھی آپ کئی مواقع پر دعا کے لئے کہا کرتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ آپ نے مجھے دعا کے لئے فرمایا اُس وقت میری عمر صرف نو سال کی تھی اس کے علاوہ ایک بات اور بھی ہے کہ جہاں روحانی عالم میں طاقتور کی دعا اس لئے سنی جاتی ہے کہ وہ مقبول ہے وہاں کمزور کی اس لئے سنی جاتی ہے کہ وہ رحم کا زیادہ مستحق ہے۔بعض مواقع پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کمزور کی دعا زیادہ جلدی قبول کر لیتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ جسے روحانی طاقت حاصل ہے اسکی دعا