خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 182

خطبات محمود ۱۸۲ سال ۱۹۳۵ء بلکہ اس کے لئے بھی ہوگی اور اگر تم دعوی کرتے ہو کہ نجات صرف تمہارے لئے ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آج خدا کا سپاہی تمہارے سوا اور کوئی نہیں۔کیا دنیا میں کوئی بھی شریف انسان ایسا ہو سکتا ہے جو کسی سے خدمت لے مگر اسے اُجرت نہ دے پھر اگر تمہارے نزدیک مسیحی بھی خدا تعالیٰ کے دین کو روشن کرنے والے ہوں ، زرتشتی بھی خدا تعالیٰ کے دین کو پھیلانے والے ہوں ، یہودی بھی اس کے دین کی اشاعت کرنے والے ہوں ، ہندو بھی اس کے نام کو بلند کرنے والے ہوں اور غیر احمدی بھی اسلام کا درد اپنے سینہ میں رکھنے والے اور اس کی رضا کو حاصل کئے ہوئے ہوں تو کیا تمہاری عقل کے کسی گوشہ میں بھی یہ بات آ سکتی ہے کہ وہ مزدوری کی اُجرت صرف تمہارے ہاتھ میں رکھے گا اور انہیں نجات سے محروم کر دے گا۔کیا تم خدا تعالیٰ کو ظالم اور بے انصاف سمجھتے ہو ؟ اگر نہیں تو پھر جب تم کہتے ہو کہ مسیح موعود کے ماننے میں ہی نجات ہے تو دوسرے معنوں میں تم یہ کہتے ہو کہ آج خدا کا تمہارے سوا اور کوئی نوکر نہیں ، آج خدا کا تمہارے سوا اور کوئی سپاہی نہیں ، پس جب کہ تم بھی ویسا ہی دعوی کرتے ہو جیسا کہ یہود نے کیا یا جس طرح رسول کریم ﷺ کے صحابہ دعوی کیا کرتے تھے کہ ان کے سوا اور کوئی نجات یافتہ نہیں ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِين يه دعوى تبھی سچا ثابت ہو گا جب تم مر کر دکھا دو۔اگر آج خدا تعالیٰ کے دین کی تمہارے سوا اور کوئی خبر لینے والا نہیں ، اگر آج دنیا کی تمام قوموں میں سے صرف تم ہی ہو جو خدا تعالیٰ کی محبت اپنے دل میں رکھتے ہو تو پھر اسلام پر جو مصیبتیں آرہی ہیں ان کے لئے تم کونسی قربانی کر رہے ہو۔کیا مہینہ کے بعد ایک آنہ روپیہ کے حساب چندہ دیدینا یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ تم مِنْ دُونِ النَّاسِ اَوْلِيَاءُ لِلَّهِ ہو۔کیا اگر ایک گھر کو آگ لگی ہوئی ہو تو تم اس پر ایک گلاس پانی ڈال دینا کافی سمجھ لیتے ہو؟ اگر نہیں تو پھر تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ تمہاری وہ قربانیاں جو تم اب تک کرتے چلے آئے ہو تمہارے لئے کافی ہیں۔اس کے لئے تو تمہیں موت میں سے گزرنا پڑے گا۔پس سوچو کہ کیا تم موت لینے کے لئے تیار ہو۔میں جانتا ہوں کہ جب بھی میں نے کسی قربانی کا اپنی جماعت سے مطالبہ کیا جماعت کے نوے فیصدی افراد نے اس پر کہا کہ ہاں ہم تیار ہیں۔پس میں اس وقت تمہیں الزام نہیں دے رہا بلکہ تمہیں میں یہ کہتا ہوں کہ اس مقصود کو تم ہمیشہ اپنے سامنے رکھو۔جب تک تم مِنْ دُونِ النَّاسِ اَوْلِيَاءُ لِلَّهِ ہونے کا دعویٰ کرتے ہو اُس وقت تک ضروری ہے کہ تم خدا