خطبات محمود (جلد 16) — Page 180
خطبات محمود ۱۸۰ سال ۱۹۳۵ء حامل نہیں تم کہتے ہو کہ تمہارے سوا اور کسی قوم کے لئے آج نجات مقدر نہیں مگر کیا تمہارے اعمال ایسے ہیں جو اس قوم کے ہونے چاہیں جوا کیلی خدا تعالیٰ کی محبوب ہو؟ اگر کوئی شخص ایسا ہو جس کا یہ دعوئی ہو کہ میرے سوا اس جگہ اور کوئی تیراک نہیں تو کیا وہ ایک ڈوبتے ہوئے بچہ کو دیکھ کر یہ انتظار کیا کرتا ہے کہ کوئی اور آئے اور اس کی جان بچائے۔یا اسے دیکھتے ہی چھلانگ لگا دیتا ہے اگر وہ سمجھتا کہ اور تیراک بھی وہاں موجود ہیں تو اس صورت میں ممکن ہے وہ اس انتظار میں کھڑا رہتا کہ کوئی اور ڈوبنے والے بچہ کو بچانے کے لئے گودے اور گو اس صورت میں بھی جرم سے وہ بالکل بری نہیں ہوگا البتہ اس کا مجرم ہلکا ہو جائے گا۔لیکن وہ شخص جو اپنے آپ کو اکیلا تیراک سمجھتا ہو اگر وہ ایک ڈوبتے ہوئے بچہ کی جان بچانے کی فکر نہیں کرتا تو وہ کتنے الزام کے نیچے آتا ہے۔ایک مالک مکان کے کئی نوکر ہوں اور فرض کرو اس کے گھر میں آگ لگ گئی ہو اور پہلے باورچی خانہ میں لگی ہوتو دوسرے نوکر ممکن ہے یہ خیال کر لیں کہ باورچی اس آگ کو بجھا لے گا اور اس خیال کے ماتحت خاموش بیٹھے رہیں گو وہ جرم سے بالکل بری نہیں ہوں گے لیکن ان کا جرم کسی قدر کم ضرور ہو جائے گا کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ اور بھی آگ کو بجھانے والے ہیں لیکن اگر ایک نوکر کو یہ یقین ہو کہ گھر میں اور کوئی خادم نہیں اور پھر بھی وہ آگ کو نہ بجھائے تو بتاؤ وہ مجرم ہو گا یا نہیں ؟ اسی رنگ میں اللہ تعالی فرماتا ہے اے یہود یو ! ہم نے تمہارے متعلق جو کچھ کہا اگر یہ گالی ہے تو ہم تمہارے سامنے ایک معیار پیش کرتے ہیں۔تم کہتے ہو کہ تمہیں تو رات ملی جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے تم کہتے ہو کہ تمہیں تو رات ملی اور اس میں سچائی اور نور ہے تم کہتے ہو کہ تمہیں تو رات ملی اور تم ہی خدا کی چنیدہ جماعت ہو تم کہتے ہو کہ تمہیں تو رات ملی اور تم ہی خدا کی محبوب قوم ہو، تمہارا دعویٰ ہے کہ اَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ تم ہی خدا کے دوست ہوا اور کوئی قوم خدا تعالیٰ کی دوست کہلانے کی حقدار نہیں، پھر بتاؤ تم نے خدا تعالیٰ کے دوست اور محبوب کہلا کر اس ظلمت اور تاریکی کے مٹانے کے لئے کیا کوششیں کیں جو آج دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔جس طرح ایک بچے کو سخت بیمار دیکھ کر اس کی ماں مرنے کے قریب ہو جاتی ہے ، جس طرح ایک بچے کو ڈوبتا دیکھ کر اس کا باپ اپنی جان سے بے پرواہ ہو کر گود پڑتا ہے ، جس طرح ایک مالک اپنے گھر میں آگ لگی دیکھ کر بے تحاشہ اسے بجھانے کے لئے دوڑ پڑتا ہے، جس طرح ایک ملک پر جب دشمن حملہ آوار ہو تو نو جوان اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ، جس طرح