خطبات محمود (جلد 16) — Page 177
خطبات محمود 122 سال ۱۹۳۵ء ہے۔ایک حقیقت حال کے اظہار کا برا طریق تو یہ ہے کہ مثلاً کسی کا نے کو دل آزاری کے طور پر میاں یک چشم کہ دیا جائے۔یہ ہو گا تو حقیقت حال کا اظہار اور گو یہ صحیح ہے کہ اس کی ایک آنکھ ہی ہوگی لیکن اگر بلا وجہ اسے کا نا کہا جائے تو ہر شخص کہے گا کہ تم نے ظلم کیا اور بلا وجہ دل آزاری کی۔وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ گالی نہیں بلکہ حقیقت حال کا اظہار ہے کیونکہ اس نے بلا وجہ محض دل آزاری کے طور پر اسے کا نا کہا ہے لیکن اگر ایک شخص جس کی صرف ایک آنکھ ہے اپنی آنکھ کی کسی بیماری کے وقت ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ مرض خطرناک ہے اگر آپریشن نہ کرایا تو تمہاری دوسری آنکھ بھی جاتی رہے گی ، آپریشن کی صورت میں ممکن ہے عرصہ تک بینائی قائم رہے تو یہ جائز ہوگا اور اظہارِ حقیقت کا اچھا طریق ہو گا پس گو پہلا شخص بھی ” کا نا کہتا ہے اور ڈاکٹر بھی اسے یک چشم کہتا ہے لیکن یہاں چونکہ ڈاکٹر مجبور تھا کہ اس کے کا نا ہونے کا ذکر کرے اور بتائے کہ اگر علاج نہ کرایا تو دوسری آنکھ بھی ضائع ہو جائے گی اس لئے کوئی اسے بداخلاق قرار نہیں دیتا اور نہ اس کے کا نا کہنے کو گال سمجھتا ہے لیکن دوسرا جب دل آزاری کے لئے بغیر کسی وجہ کے یونہی کا نا کہہ دے تو وہ گالی سمجھی جاتی ہے۔اسی طرح جب مجسٹریٹ کے سامنے کسی شخص پر چوری کا مقدمہ پیش ہوتا ہے اور پولیس اس کے چور ہونے کو ثابت کر دیتی ہے تو کیا فیصلہ کرتے وقت مجسٹریٹ یہ لکھا کرتا ہے کہ زید چور ہے اور اسے چوری کی سزا دی جاتی ہے۔یا یہ لکھا کرتا ہے کہ زید بڑا شریف، نیک، عابد اور زاہد ہے اس لئے میں اسے دو سال قید کی سزا دیتا ہوں۔پھر کیا جب مجسٹریٹ چور کو چور کہتا ہے تو کوئی اسے گالی سمجھتا ہے؟ کوئی بھی شخص اس لفظ کو گالی نہیں سمجھتا کیونکہ مجسٹریٹ کو ضرورتا اور حاجتاً اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں۔غرض جب کوئی الفاظ حقیقت حال کے مطابق ہوں اور ضرورت ان الفاظ کے کہے جانے پر مجبور کرے تو وہ گالی نہیں بلکہ تمثیل اور تنبیہ کہلاتی ہے۔گالی وہ ہوتی ہے جو معنوی لحاظ سے مخاطب میں پائی نہیں جاتی اور اگر پائی جاتی ہو تو اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔مشہور ہے کہ کوئی آدمی ایک ایسے محلہ سے گزرا کرتا تھا جس میں ایک کانی عورت رہا کرتی تھی۔وہ جب اسے پنجابی زبان میں کہتا بھا بھی کا میئے اسلام۔اس پر وہ شور مچانا شروع کر دیتی اور لوگ جب اکٹھے ہوتے تو وہ کہتا کہ میں نے تو اسے سلام کیا ہے اور کافی کو کافی نہ کہوں تو اور کیا کہوں۔مگر یہ طریق با وجود حقیقت حال کے مطابق ہونے کے برا سمجھا جاتا ہے اور سمجھا جانا چاہئے کیونکہ اس کا مقصد محض دل آزاری ہوتا ہے لیکن