خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 162

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء غصہ اور محبت دونوں حالتوں میں عقل کو نہیں کھوتا۔تین ہی حالتیں ایسی ہوسکتی ہیں جو انسان کی عقل مار دیں، شہوات ،محبت اور غصہ مگر اسلام نے ان سب حالتوں کے متعلق ایسا طریق سکھایا ہے کہ کسی میں بھی عقل نہ ماری جائے۔مثلاً شہوات کو ہی لے لو رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کے پاس بھی جائے تو خدا کا ذکر کرے اور یہ دعا مانگے اللهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَيْبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا لا غرض کوئی حالت نہیں جب مسلمان عقل کو کھو ڈالے۔اب فرماتا ہے وَ الخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ کے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ ایک اور جماعت کو بھی یہی تعلیم دیں گے۔اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو پھر مبعوث کرے گا اور یہ بھی کہ رسول کریم ﷺ پھر تزکیہ کریں گے اور حکمت سکھائیں گے ان لوگوں کو جو صحابہ سے اس وقت تک نہیں ملے تھے۔بخاری میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ كُنَّا جُلُوسًا عِندَ النَّبِي الا الله فَأَنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ وَ الْخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُرَاجِعُهُ حَتَّى سَأَلَ ثَلَاثًا فَوَضَعَ يَدَه عَلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيَ وَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالثَّرَيَّا لَنَا لَهُ رِجَالٌ مِنْ هؤلاء - A یعنی ہم رسول کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے جس وقت سورۃ جمعہ نازل ہوئی اور آپ نے وہ سورۃ پڑھی جب آپ واخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ پر پہنچے ایک شخص نے سوال کیا۔يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وہ کون لوگ ہیں جو اب تک ہم سے نہیں ملے۔اس پر آپ نے اپنا ہاتھ سلمان فارسی پر رکھا اور فرمایا مجھے اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ایمان شریا سے بھی جا چھٹے تو ان میں سے کچھ لوگ اسے وہاں سے بھی اُتار لائیں گے۔اس طرح آپ نے بتا دیا کہ جب اسلام مٹ جائے گا تو فارسی الاصل لوگوں میں سے ایسے افراد پیدا ہوں گے جو اسے پھر دنیا میں قائم کر دیں گے۔الخَرِین ہونے کے مدعی سوائے آپ کے دنیا میں اور کوئی نہیں اور آج تک کوئی بھی مدعی ایسا نہیں گزرا جس نے اس آیت کے مطابق دعویٰ کیا ہو۔بے شک بعض بہائی کہتے ہیں کہ اس کا مصداق بہاء اللہ ہے مگر یہاں رسول کریم ﷺ کی دوبارہ بعثت اور آپ ہی کی شریعت کے دوبارہ قیام کا ذکر ہے اور بہاء اللہ نئی کتاب اور نئی شریعت کا مدعی ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایسا ہی شخص مراد ہے جو قرآن کریم کی تعلیم کو