خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 163

خطبات محمود ۱۶۳ سال ۱۹۳۵ء پھیلائے اور اس کی خدمت کرے ، اس کا تزکیہ محمد رسول اللہ ﷺ کا تزکیہ کہلا سکے ، اس کا کتاب سکھانا اور تلاوت آیات محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہو سکے اور جب تک کوئی ایسا آدمی کھڑا نہ ہو اس وقت تک پیشگوئی پوری نہیں ہو سکتی۔اگر اسے بہاء اللہ پر چسپاں کر دیا جائے تو یہ پیشگوئی باطل ہو جاتی ہے کیونکہ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کریم ہی دوبارہ سکھایا جائے گا۔پس بہاء اللہ پر تو یہ پیشگوئی چسپاں ہی نہیں ہو سکتی اور فارسی الاصل صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات ہی باقی رہ جاتی ہے اور آپ ہی نے اپنے دعوی کی بنیاد اس پیشگوئی پر رکھی ہے اور فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے بھیجا ہے کہ شریعت اسلامیہ کو دوبارہ قائم کروں جسے لوگ بھول گئے ہیں۔میں کوئی نیا ایمان نہیں لایا بلکہ اس لئے آیا ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے ایمان کو ہی دلوں میں قائم کروں اور یہی اس آیت سے ثابت ہے کہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ہی وہ موعود دوبارہ قائم کرے گا۔اس کے ساتھ فرمایا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ہم عزیز ہیں جب ہم نے کہہ دیا کہ یہ آخری تعلیم ہے تو اگر دنیا کے اختتام سے پہلے ہی اس کی حفاظت اور خبر گیری چھوڑ دیں تو یہ عزیز ہونے کے منافی ہو گا۔( کیونکہ عزیز کے معنی غالب کے ہیں اور غالب درمیان میں کام نہیں چھوڑا کرتے۔کام وہی چھوڑتے ہیں جو کام کر نہ سکیں یا نفس کے غلام ہوں اور شہوات انہیں ادھر سے اُدھر لے جائیں) ایک شخص ظہر کی نماز کے فرض شروع کرتا ہے اور چار رکعت پوری کر کے چھوڑتا ہے تو کوئی نہیں کہ سکتا کہ اس میں استقلال نہیں لیکن جو دو پڑھ کر ہی چھوڑ دیتا ہے اس کے متعلق ہر شخص یہی کہے گا کہ یہ غیر مستقل ہے۔جس لڑکے کے والدین اسے انٹرنس تک ہی تعلیم دلوا سکتے ہیں وہ اگر امتحان پاس کرنے کے بعد سکول میں نہیں جاتا تو کوئی شخص اسے غیر مستقل نہیں کہہ سکتا لیکن اگر وہ امتحان سے چھ ماہ قبل ہی سکول چھوڑ دے تو یقیناً غیر مستقل کہلائے گا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کو قیامت تک کے لئے مبعوث کیا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ آپ کی لائی ہوئی تعلیم میں کوئی خرابی پیدا ہوا اور ہم اس کی اصلاح کا بندوبست نہ کریں اس صورت میں تو ہم غیر مستقل ٹھہر میں گے جو صفت عزیز کے خلاف ہے اس لئے یہ امر لازمی ہے کہ قیامت سے پہلے جب بھی کوئی خرابی ہو، ہم ایسے لوگوں کو جو آپ کے تابع اور آپ کی نبوت کے حصہ میں شامل اور آپ ہی کے سایہ کے نیچے ہوں، کھڑا کرتے رہیں۔تا عدم استقلال کا الزام ہم پر نہ آ سکے۔پھر فرمایا ہم حکیم بھی ہیں اس لئے