خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 149

خطبات محمود ۱۴۹ سال ۱۹۳۵ء کیا یہ بول سکتا ہے ؟ وہ کبھی اس کے بولنے کو تسلیم نہیں کرے گا بلکہ انکار کرے گا۔اسی طرح اگر کوئی پٹھان جوصرف پشتو بولتا ہو آئے اور ایسے لوگوں کو جو پشتو کا ایک حرف بھی نہیں سمجھتے گھنٹہ بھر تقریر کرے اور اپنے درد بھرے واقعات لوگوں کو سنائے تو کیا کوئی ہو گا جو اس کی بات کو سمجھ سکے۔لوگوں سے پوچھا جائے تو وہ یہی کہیں گے کہ کچھ غبر غبر کر رہا تھا۔اسی طرح اگر چینی آجائے اور وہ اپنی زبان میں تقریر کرے تو لوگ سن کر کیا سمجھیں گے ؟ کچھ بھی نہیں ، یہی خیال کریں گے کہ چیں چیں کر رہا ہے۔یا مثلاً فرض کرو ایران کی ایک عورت فارسی زبان سے ناواقف ہندوستانیوں میں آتی ہے اور اپنی درد بھری کہانیاں لوگوں کو سناتی اور اپنے مصائب کا قصہ ان کے سامنے دُہراتی ہے۔وہ بیان کرتی ہے کہ کس طرح اس کا خاوند فوت ہو گیا ، پھر اس کے رشتہ داروں نے اس کے ساتھ غداری کی اور اس کی جائداد وغیرہ سب چھین لی اور اسے گھر سے باہر نکال دیا، وہ در بدر ٹھوکریں کھاتی رہی ، جنگلوں کی خاک اس نے چھانی ، پاؤں میں اس کے چھالے پڑ گئے ، آگے آئی تو ڈاکوؤں نے اسے پکڑ لیا اور اسے زدو کوب کیا۔فرض کرو یہ تمام قصہ وہ سناتی ہے اور اپنی ساری قوت بیان وہ صرف کر دیتی ہے لیکن اگر پنجاب کے کسی گاؤں میں وہ یہ باتیں بیان کرے تو عورتیں اور بچے اس کی تقریر سن کر کیا سمجھیں گے وہ ایک حرف بھی اُس کی داستان غم کا نہیں سمجھ سکتے کیونکہ وہ اس آواز کونہیں سمجھ سکتے۔وہ یہی کہیں گے کہ یونہی ہست بود کر رہی ہے یا مثلاً اُسی وقت ایک چڑیا چہچہائی ہے ہم نہیں جانتے ان کی کوئی زبان ہوتی ہے یا نہیں لیکن اگر ہوتی ہے تو ممکن ہے اس چڑیا نے یہی کہا ہو کہ میرے پیارے بچے ! میرے پاس آ جا لیکن چونکہ ہم اس کی زبان سے نا آشنا ہیں اس لئے ہم اس آواز کو بے معنی سمجھتے ہیں۔غرض دنیا میں جب کوئی شخص کسی چیز کو نہیں سمجھتا تو وہ خیال کرتا ہے کہ وہ بے معنی اور نا کا رہ ہے مگر سمجھنے والا اس آواز کو سمجھتا اور اس سے فائدہ اُٹھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب کھانا کھایا کرتے تو بمشکل ایک پھل کا آپ کھاتے اور جب آپ اُٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا پورہ آپ کے سامنے سے نکلتا۔آپ کی عادت تھی کہ روٹی تو ڑتے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے جاتے پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دستر خوان پر رکھے رہتے۔معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسا کیوں کیا کرتے تھے مگر کئی دوست کہا کرتے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی کے ٹکڑوں میں سے کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا