خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 150 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 150

خطبات محمود ۱۵۰ سال ۱۹۳۵ء نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے اس قسم کی بات سننی مجھے اس وقت یاد نہیں مگر یہ یاد ہے کہ لوگ یہی کہا کرتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ زمین و آسمان میں سے تسبیحوں کی آواز میں اُٹھ رہی ہیں اب کیوں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے جبکہ ہم اس تسبیح کی آواز کو سن ہی نہیں سکتے اور جس چیز کو ہم سن نہیں سکتے اس کے بتانے کی ہمیں کوئی ضرورت نہ تھی۔کیا قرآن میں کہیں یہ لکھا ہے کہ جنت میں فلاں مثلاً عبد الرشید نامی ایک شخص دس ہزار سال سے بیٹھا ہوا ہے ہمارے لئے چونکہ اس کے ذکر سے کوئی فائدہ نہ تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی باتیں نہیں بتا ئیں ، پھر جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے تو اس کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اے لوگو ! تم اس تسبیح کو سنو۔جب ہم کہتے ہیں کہ چاند نکل آیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ لوگ آئیں اور دیکھیں یا جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص گا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چلو اور اس کا راگ سنو ، اسی طرح جب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس تسبیح کو سنو پس معلوم ہوا کہ یہ تسبیح ایسی ہے جسے ہم سن بھی سکتے ہیں۔ایک تو سننا ادنی درجہ کا ہے اور ایک اعلیٰ درجہ کا مگر اعلیٰ درجہ کا سننا انہی لوگوں کو میسر آ سکتا ہے جن کے ویسے ہی کان اور آنکھیں ہوں اسی لئے مؤمن کو یہ کہا جاتا ہے کہ جب وہ کھانا شروع کرے تو بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ کہے کھا نا ختم کرے تو الحَمدُ لِلهِ کہے، کپڑا پہنے یا کوئی اور نظارہ دیکھے تو اسی کے مطابق تسبیح کرے۔گویا مؤمن کا تسبیح کرنا کیا ہے؟ وہ ان چیزوں کی تسبیح کی تصدیق کرنا ہے۔وہ کپڑے کی تسبیح اور کھانے کی تسبیح اور دوسری چیزوں کی تسبیح کی تصدیق کرتا ہے مگر کتنے ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں وہ رات دن کھاتے اور پیتے ہیں، پہاڑوں پر سے گزرتے ہیں ، دریاؤں کو دیکھتے ہیں ، سبزہ زاروں کا مشاہدہ کرتے ہیں ، درختوں اور کھیتوں کو لہلہاتے ہوئے دیکھتے ہیں، پرندوں کو چہچہاتے ہوئے سنتے ہیں مگر ان کے دلوں پر کیا اثر ہوتا ہے۔کیا ان کے دلوں میں بھی ان چیزوں کے مقابلہ میں تسبیح پیدا ہوتی ہے اگر نہیں پیدا ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان چیزوں کی تسبیح کو نہیں سنا مگر تم کہو گے کہ ہمارے کانوں میں تسبیح کی آواز نہیں آتی۔میں اس کے لئے تمہیں بتا تا ہوں کہ کئی آوازیں کان سے نہیں بلکہ اندر سے آتی ہیں۔مثلاً خوشی ہے کیا اس