خطبات محمود (جلد 16) — Page 87
خطبات محمود ۸۷ سال ۱۹۳۵ء تاریخی کتاب کا اشتہار دیا جو ان کے پاس بھی آیا اس کتاب کی قیمت بالاقساط ادا کرنی تھی ، وہ کئی جلدوں کی کتاب تھی ، مسٹر بار کرنے بھی کتاب کی خریداری منظور کر لی ۔ جب کتاب ان کے پاس پہنچی تو اس میں بعض ایسی باتیں رسول کریم ﷺ کے متعلق درج تھیں جو پادری غلط طور پر یورپ میں شائع کرتے رہتے ہیں انہوں نے کتاب کا وہ حصہ دیکھا جو خلاف واقعہ اور ہتک آمیز تھا تو فوراً اس فرم کو خط لکھا کہ میں اس کتاب کی قیمت نہیں دونگا کیونکہ یہ کوئی تاریخی کتاب نہیں بلکہ محض کہانیوں کا مجموعہ ہے اور ہمارے ہادی اور راہنما محمد ﷺ کے متعلق اس میں سرا سر غلط اور خلاف واقعہ باتیں درج ہیں اور میرا مقصد قیمت کی ادائیگی کے انکار - ادائیگی کے انکار سے یہ ہے کہ تم مجھ پر نالش کرو تا میں عدالت میں ثابت کر سکوں کہ واقعی محمد ﷺ کی ہتک کی گئی ہے ۔ فرم والے بھی بھلا کب خاموش رہنے والے تھے انہوں نے نالش کر دی ۔ شکاگو کی عدالت میں مقدمہ پیش ہوا ، وہاں کی یونیورسٹی کے بعض پروفیسروں کی شہادت ہوئی ، ہمارے مبلغ صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی کی بھی شہادت ہوئی اور عدالت نے فیصلہ دیا کہ واقعی کتاب میں محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق غلط باتیں درج ہیں اور مسٹر بارکر کا حق ہے کہ اس کی قیمت ادا نہ کرے۔ یہ باتیں بتاتی ہیں کہ بیرونی ممالک میں جماعتیں عمدگی سے ترقی کر رہی ہیں اور یہ سب ترقی میرے ہی زمانہ میں ہوئی ہے اور جب کسی امر کے متعلق واقعات ظاہر ہو جائیں تو پھر اس میں شک کرنا تو ایسا ہی ہے کہ جیسے کہتے ہیں کسی کو جنگ میں تیر لگ گیا وہ خون دیکھتا جائے اور کہتا جائے کہ خدایا! یہ خواب ہی ہو۔ پس جب سب باتیں میرے متعلق پوری ہو رہی ہیں تو میں مجبور ہوں کہ دعویٰ کروں کہ یہ پیشگوئیاں میرے متعلق ہیں مگر باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ پیشگوئیوں کا تعلق عمر سے نہیں ہوتا ممکن ہے میری عمر بہت لمبی ہو لیکن اگر ایسا نہ بھی ہو تو بھی پیشگوئیوں پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا ۔ اگر اللہ تعالیٰ میں سال میں مجھ سے اتنا کام لے لے جو دوسرے سو سال میں کرتے ہیں تو پیشگوئی پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ پیشگوئیوں کی ساری کیفیت اسی کی زندگی میں پوری ہونی ضروری نہیں جس کے متعلق کوئی پیشگوئی ہو ۔ رسول کریم ﷺ کے متعلق قرآن کریم میں پیشگوئی ہے کہ ہم نے رسول کو بھیجا ہے تا اسلام کو گل ادیان پر غالب کر دیں ۔ ہے مگر اس کا اظہار آپ کے زمانہ میں نہیں ہوا بلکہ آپ کے بروز مسیح موعود کے زمانہ میں سارے ملکوں میں اسلام